ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 630

ضرورة الامام — Page 479

روحانی خزائن جلد ۱۳ ضرورة الامام اور نیک اعمال اور تمام الہی معارف اور محبت الہی میں آگے بڑھنے کا شوق یعنی روح اس کی کسی نقصان کو پسند نہ کرے اور کسی حالت ناقصہ پر راضی نہ ہو۔ اور اس بات سے اس کو درد پہنچے اور دکھ میں پڑے کہ وہ ترقی سے روکا جائے یہ ایک فطرتی قوت ہے جو امام میں ہوتی ہے اور اگر یہ اتفاق بھی پیش نہ آوے کہ لوگ اس کے علوم اور معارف کی پیروی کریں اور اس کے نور کے پیچھے چلیں تب بھی وہ بلحاظ اپنی فطرتی قوت کے امام ہے۔ غرض یہ دقیقہ معرفت یا درکھنے کے لائق ہے کہ امامت ایک قوت ہے کہ اس شخص کے جو ہر فطرت میں رکھی جاتی ہے کہ جو اس کام کیلئے ارادہ الہی میں ہوتا ہے۔ اور اگر امامت کے لفظ کا ترجمہ کریں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ قوت پیشروی۔ غرض یہ کوئی عارضی منصب نہیں جو پیچھے سے لگ جاتا ہے بلکہ جس طرح دیکھنے کی قوت اور سننے کی قوت اور سمجھنے کی قوت ہوتی ہے اسی طرح یہ آگے بڑھنے اور الہی امور میں سب سے اول درجہ پر رہنے کی قوت ہے اور انہی معنوں کی طرف امامت کا لفظ اشارہ کرتا ہے۔ تیسری قوت بسطت فی العلم ہے جو امامت کیلئے ضروری اور اس کا خاصہ لازمی ہے۔ چونکہ امامت کا مفہوم تمام حقائق اور معارف اور لوازم محبت اور صدق اور وفا میں آگے بڑھنے کو چاہتا ہے۔ اسی لئے وہ اپنے تمام دوسرے قومی کو اسی خدمت میں لگا دیتا ہے اور رَبِّ زِدْنِي عِلماے کی دعا میں ہر دم مشغول رہتا ہے اور پہلے سے اس کے مدارک اور حواس ان امور کے لئے جو ہر قابل ہوتے ہیں۔ اسی لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے علوم الہیہ میں اس کو بسطت عنایت کی جاتی ہے اور اس کے زمانہ میں کوئی دوسرا ایسا نہیں ہوتا جو قرآنی معارف کے جاننے اور کمالات افاضہ اور اتمام حجت میں اس کے برابر ہو اس کی رائے صائب دوسروں کے علوم کی تصحیح کرتی ہے۔ اور اگر دینی حقائق کے بیان میں کسی کی رائے اس کی رائے کے مخالف ہو تو حق اس کی طرف ہوتا ہے کیونکہ علوم حقہ کے جاننے میں نو رفراست اس کی مدد کرتا ہے۔ اور وہ نوران چمکتی ہوئی شعاعوں کے ساتھ دوسروں کو نہیں دیا جاتا وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ پس جس طرح مرغی انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے لے کر ان کو بچے بناتی ہے اور پھر بچوں کو پروں کے نیچے رکھ کر اپنے جوہر ان کے اندر طه : ۱۱۵