ضرورة الامام — Page 478
روحانی خزائن جلد ۱۳ ضرورة الامام کہ نعوذ باللہ آپ اخلاق فاضلہ سے بے بہرہ تھے کیونکہ وہ تو خودا خلاق سکھلاتے اور نرمی کی تاکید کرتے ہیں بلکہ یہ لفظ جو اکثر آپ کے منہ پر جاری رہتے تھے یہ غصہ کے جوش اور مجنونانہ طیش سے نہیں نکلتے تھے بلکہ نہایت آرام اور ٹھنڈے دل سے اپنے محل پر یہ الفاظ چسپاں کئے جاتے تھے ۔ غرض اخلاقی حالت میں کمال رکھنا اماموں کیلئے لازمی ہے۔ اور اگر کوئی سخت لفظ سوختہ مزاجی اور مجنونانہ طیش سے نہ ہو اور عین محل پر چسپاں اور عند الضرورت ہو تو وہ اخلاقی حالت کے منافی نہیں ہے اور یہ بات بیان کر دینے کے لائق ہے کہ جن کو خدا تعالی کا ہاتھ امام بناتا ہے ان کی فطرت میں ہی امامت کی قوت رکھی جاتی ہے اور جس طرح الہی فطرت نے بموجب آیت کریمہ اغطى كُلَّ شَيْ خَلْقَهُ۔ ہر ایک چرند اور پرند میں پہلے سے وہ قوت رکھ دی ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کے علم میں یہ تھا کہ اس قوت سے اس کو کام لینا پڑے گا اسی طرح ان نفوس میں جن کی نسبت خدا تعالیٰ کے ازلی علم میں یہ ہے کہ ان سے امامت کا کام لیا جاوے گا منصب امامت کے مناسب حال کئی روحانی ملکے پہلے سے رکھے جاتے ہیں اور جن لیاقتوں کی آئندہ ضرورت پڑے گی ۔ ان تمام لیا قتوں کا بیج ان کی پاک سرشت میں بویا جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اماموں میں بنی نوع کے فائدے اور فیض رسانی کے لئے مندرجہ ذیل قوتوں کا ہونا ضروری ہے: اول۔ قوت اخلاق ۔ چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بد زبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رزیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی مشتمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو که ادنی ادنی بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں وہ کسی طرح امام زمان نہیں ہو سکتا۔ لہذا اس پر آیت اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ۔ کا پورے طور پر صادق آجانا ضروری ہے۔ دوم ۔ قوت امامت ہے جس کی وجہ سے اس کا نام امام رکھا گیا ہے یعنی نیک باتوں طه : ۵۱ القلم : ۵