ضرورة الامام — Page 476
روحانی خزائن جلد ۱۳ ضرورة الامام تو خدا کے غضب کے صاعقہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کے تعلقات خدا تعالیٰ سے بکلی ٹوٹ گئے اور جو کچھ ان کے بارے میں قرآن شریف میں لکھا گیا اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ یا اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے نصرت دین کیلئے مدد مانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہوتا تھا اگر چہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نافرمانی کی تھی خدا تعالیٰ کی نظر سے گر گئے تھے لیکن جب عیسائی مذہب بوجہ مخلوق پرستی کے مر گیا اور اس میں حقیت اور نورانیت نہ رہی تو اس وقت کے یہود اس گناہ سے بری ہو گئے کہ وہ عیسائی کیوں نہیں ہوتے تب ان میں دوبارہ نورانیت پیدا ہوئی اور اکثر ان میں سے صاحب الہام اور صاحب کشف پیدا ہونے لگے اور ان کے راہبوں میں اچھے اچھے حالات کے لوگ تھے اور وہ (1) ہمیشہ اس بات کا الہام پاتے تھے کہ نبی آخر زمان اور امام دوران جلد پیدا ہوگا اور اسی وجہ سے بعض ربانی علماء خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ملک عرب میں آرہے تھے اور ان کے بچہ بچہ کو خبرتھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔ یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُم لے یعنی اس نبی کو وہ ایسی صفائی سے پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بچوں کو۔ مگر جب کہ وہ نبی موعود اس پر خدا کا سلام ظاہر ہو گیا۔ تب خود بینی اور تعصب نے اکثر راہبوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے دل سیہ ہو گئے۔ مگر بعض سعادتمند مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام اچھا ہوا پس ی ڈرنے کا مقام ہے اور سخت ڈرنے کا مقام ہے خدا تعالیٰ کسی مومن کی بلعم کی طرح بد عاقبت نہ کرے۔ الہی تو اس امت کو فتنوں سے بچا اور یہودیوں کی نظیر میں ان سے دور رکھ۔ آمین ثم آمین۔ اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے قبائل اور قو میں اس غرض سے بنائیں کہ تا اس جسمانی تمدن کا ایک نظام قائم ہو اور بعض کے بعض سے رشتے اور تعلقات ہو کر ایک دوسرے کے ہمدرد اور معاون ہو جاویں۔ اسی غرض سے اس نے سلسلہ نبوت اور امامت قائم کیا ہے کہ تا امت محمدیہ میں روحانی تعلقات پیدا ہو جائیں اور بعض بعض کے شفیع ہوں۔ اب ایک ضروری سوال یہ ہے کہ امام الزمان کس کو کہتے ہیں اور اس کی علامات کیا ہیں اور اس کو دوسرے البقرة : ٩٠ البقرة : ۱۴۷