ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 630

ضرورة الامام — Page 475

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۷۵ ضرورة الامام سے دینی تفقہ کی استعداد رکھتا ہے اس کے تدبر اور سوچنے کی قوت کو زیادہ کیا جاتا ہے اور جس کو عبادات کی طرف رغبت ہو اس کو تعبد اور پرستش میں لذت عطا کی جاتی ہے۔ اور جوشخص غیر قوموں کے ساتھ مباحثات کرتا ہے اس کو استدلال اور اتمام حجت کی طاقت بخشی جاتی ہے۔ اور یہ تمام باتیں در حقیقت اسی انتشار روحانیت کا نتیجہ ہوتا ہے جو امام الزمان کے ساتھ آسمان سے اترتی اور ہر ایک مستعد کے دل پر نازل ہوتی ہے۔ اور یہ ایک عام قانون اور سنت الہی ہے جو ہمیں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رہنمائی سے معلوم ہوا اور ذاتی تجارب نے اس کا مشاہدہ کرایا ہے مگر مسیح موعود کے زمانہ کو اس سے بھی بڑھ کر ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ کہ پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچے نبوت (2) کریں گے۔ اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔ اور یہ سب کچھ مسیح موعود کی روحانیت کا پر تو ہ ہوگا۔ جیسا کہ دیوار پر آفتاب کا سایہ پڑتا ہے تو دیوار منور ہو جاتی ہے۔ اور اگر چونہ اور قلعی سے سفید کی گئی ہو تو پھر تو اور بھی زیادہ چمکتی ہے۔ اور اگر اس میں آئینے نصب کئے گئے ہوں تو ان کی روشنی اس قدر بڑھتی ہے کہ آنکھ کو تاب نہیں رہتی ۔ مگر دیوار دعوی نہیں کر سکتی کہ یہ سب کچھ ذاتی طور پر مجھ میں ہے۔ کیونکہ سورج کے غروب کے بعد پھر اس روشنی کا نام ونشان نہیں رہتا۔ پس ایسا ہی تمام الہامی انوار امام الزمان کے انوار کا انعکاس ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی قسمت کا پھیر نہ ہو اور خدا کی طرف سے کوئی ابتلا نہ ہو تو سعید انسان جلد اس دقیقہ کو سمجھ سکتا ہے اور خدانخواستہ اگر کوئی اس الہی راز کونہ سمجھے اور امام الزمان کے ظہور کی خبر سن کر اس سے تعلق نہ پکڑے تو پھر اول ایسا شخص امام سے استغنا ظاہر کرتا ہے اور پھر استغنا سے اجنبیت پیدا ہوتی ہے اور پھر اجنبیت سے سوظن بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر سونچن سے عداوت پیدا ہوتی ہے اور پھر عداوت سے نعوذ باللہ سب ایمان تک نوبت پہنچتی ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ہزاروں راہب ملہم اور اہل کشف تھے اور نبی آخر الزمان کے قرب ظہور کی بشارت سنایا کرتے تھے لیکن جب انہوں نے امام الزمان کو جو خاتم الانبیاء تھے قبول نہ کیا