تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 566

تحفة الندوہ — Page 91

روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح ۹۱ نظم میرنا میر ناصر نواب صاحب دہلوی و دعوت الایمان تازہ ہوتا ہے اس کو پڑھ کر دیں ہے یہ آب حیات بہتر ہے عجب اک کتاب عالی شان بڑھتی ہے رونق ایمان مرده روحوں کو بخشتی ہے جان اس کی تعریف سے ہوں میں عاجز وصف سے اس کے لال میری زبان گھر ہوں کی ہے رہنما یہ کتاب ہے ہدایت کا ان کے بیکسوں کی ہے تکیہ گاہ یہی لا علاجوں کا اس میں ہے درمان مضامین اس کے لاثانی سے کھلتے ہیں دین کے عقدے ہے جہل جاتا ہے باغ دنیا نہیں یہ جنت ہے اس میں ہیں شیر و شہد کی نہریں ہم عطا یا الہی تو ہم ہے مفت کشتی کی یہ سامان ہے خدا کے رسول کا نشان غور اسے پڑھے انسان گر دور ہوتے ہیں اس سے وہم و گمان جس میں پھرتے ہیں حور اور غلمان جا بجا اس میں قصر عالی شان کوئی اجرت کا یاں نہیں خواہان ایسے ملاح پر ہیں ہم قربان بنده ہے کو دور ہوں ہم سے نفس کے جذبات تیرے حکموں یہ ہم چلیں دن رات ہم سے تو خوش ہو تجھ سے ہم راضی تیرا دے توفیق کیونکہ تو ہے رحیم اور رحمان ہم بھاگے پرے پرے شیطان جسم ہم مان لیں ترے فرمان سے جب ہمارے نکلے جان ناصر عاجز چاہتا ہے یہ سے تیری امان تیری رحمت کا تجھ سے خواہاں ہے اس کے بوجھ اے مولیٰ دور کر فضل کا تیرے تجھ سے ہے جویان راستہ اپنا اس پہ کر آسان اتقیا میں اسے بھی شامل کر رحم کر رحم اس پر اے سُبحان ڈھانک دے دے اس کے عیب اے ستار بطفیل محمد احمد رکھتا ہے تجھ پر نیک گمان درد کا اس کے جلد کر درمان دل سے اپنے یہ ہے غلام امام کر مدد اس کی ظاہر و پنہان