تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxix

وہ صادق ہے تو اُس کے چلے جانے کے بعد اب لکھ کر دکھائے۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۲۳۱۔ترجمہ از عربی عبارت) آپ نے ’’انجام آتھم‘‘ کے عربی حصّہ کے مقابلہ میں لکھنے کے لئے بھی علماء کو بُلایا اور اس پر انعام مقرر کیا لیکن کسی کو مقابل پر آنے کی جرأت نہ ہوئی۔غلطیوں کے اعتراض کا جواب غلطیوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضور علیہ السلام نے فرمایا:۔’’جو شخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا ممکن ہے کہ حسب مقولہ قلّما سَلِمَ مِکثارٌ کوئی صرفی یا نحوی غلطی اُس سے ہو جائے اور بباعث خطاء نظر کے اس غلطی کی اصلاح نہ ہو سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کاتب سے کوئی غلطی چھپ جائے اور بباعث ذہول بشریت مؤلف کی اُس پر نظر نہ پڑے۔‘ ‘ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ ۴۷) مولوی بٹالوی کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔’’ان کتبی مُبََرَّأَ ۃٌ مما زعمت و منزہۃ عَمَّا ظننت اِلاّسہوالکاتبین او زیغ القلم بتغافل منی لاکجھل الجاھلین۔فان قدرت ان تثبت فیھا عثارا فخذمنّی بحذاء کل لفظ غلط دینارا واجمع صریفاً و نضارًا و کن من المتمولین۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ۲۴۱،۲۴۲) یعنی میری کتابیں ایسی غلطیوں سے جیسا کہ تیرا خیال ہے مبّرا اور منزہ ہیں۔ہاں سہو کاتب کی غلطیاں یا لغزش قلم سے جو بے خبری میں ایک مؤلف سے بعض وقت صادر ہو جاتی ہیں ان میں پائی جا سکتی ہیں۔لیکن وہ ایسی غلطیاں نہیں جو ایک جاہل زبان سے صادر ہوتی ہیں۔اگر تم کوئی ایسی غلطی بتا سکو تو مَیں ہر لفظی غلطی پر ایک دینار دوں گا اِس طرح تم سونا چاندی جمع کرکے مال دار بھی بن سکتے ہو۔