تحفۂ گولڑویہ — Page 47
روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۷ ضمیمه تحفه گوار و به اس کا نتیجہ موجودہ مولویوں کے لئے جو محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی ثم امرتسری اور عبد الحق غزنوی ثم امرتسری اور مولوی پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور رشید احمد گنگوہی اور نذیر حسین دہلوی اور رسل بابا امرتسری اور منشی الہی بخش صاحب اکو نٹسٹ اور حافظ محمد یوسف ضلعدار نهر وغير هم کے لئے یہ تو نہ ہوا کہ اس اعجاز صریح سے یہ لوگ فائدہ اُٹھاتے اور خدا سے ڈرتے اور تو بہ کرتے ۔ ہاں ان لوگوں کی ان چند نمونوں کے بعد کمریں ٹوٹ گئیں اور اس قسم کی تحریروں سے ڈر گئے فلن يكتبوا بمثل هذا بما تقدمت الامثال ۔ بيه مجزه کچھ تھوڑ انہیں تھا کہ جن لوگوں نے مدار فیصلہ جھوٹے کی موت رکھی تھی وہ میرے مرنے سے پہلے قبروں میں جاسوئے۔ اور میں نے ڈپٹی آتھم کے مباحثہ میں قریباً ساٹھ آدمی کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو تھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔ مجھے ان لوگوں کی حالتوں پر رحم آتا ہے کہ بخل کی وجہ سے کہاں تک اِن لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ اگر کوئی نشان بھی طلب کریں تو کہتے ہیں کہ یہ دعا کرو کہ ہم سات دن میں مرجائیں۔ نہیں جانتے کہ خود تراشیدہ میعادوں کی خدا پیروی نہیں کرتا اُس نے فرما دیا ہے کہ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ لے۔ اور اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا۔ سو جبکہ سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کی میعاد اپنی طرف سے پیش نہیں کر سکتے تو میں سات دن کا کیونکر دعویٰ کروں ۔ ان نادان ظالموں سے مولوی غلام دستگیر ا چھا رہا کہ اُس نے اپنے رسالہ میں کوئی میعاد نہیں لگائی۔ یہی دعا کی کہ یا الہی اگر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے۔ اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوی میں حق پر نہیں تو اُسے مجھ سے پہلے موت دے۔ بعد اس کے بہت جلد خدا نے اس کو موت دے دی ۔ دیکھو کیسا صفائی سے فیصلہ ہو گیا۔ اگر کسی کو اس فیصلہ کے ماننے میں تر ڈر ہو تو اس کو اختیار ہے کہ آپ خدا کے فیصلہ کو آزمائے لیکن ایسی شرارتیں چھوڑ دے جو آیت وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاى ا بنی اسرائیل: ۳۷ ۲ الكهف: ۲۴