تحفۂ گولڑویہ — Page 46
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۶ ضمیمه تحفه گولر و به یہی کا ذب کی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ قرآن بھی اس کی گواہی دے اور آسمانی نشان بھی اسی کی تائید میں نازل ہوں۔ اور عقل بھی اُسی کی مؤید ہو اور جو اس کی موت کے شائق ہوں وہی مرتے جائیں۔ میں ہرگز یقین نہیں کرتا کہ زمانہ نبوی کے بعد کسی اہل اللہ اور اہل حق کے مقابل پر کبھی کسی مخالف کو ایسی صاف اور صریح شکست اور ذلت پہنچی ہو جیسا کہ میرے دشمنوں کو میرے مقابل پر پہنچی ہے۔ اگر انہوں نے میری عزت پر حملہ کیا تو آخر آپ ہی بے عزت ہوئے اور اگر میری جان پر حملہ کر کے یہ کہا کہ اس شخص کے صدق اور کذب کا معیار یہ ہے کہ وہ ہم سے پہلے مرے گا تو پھر آپ ہی مر گئے ۔ مولوی غلام دستگیر کی کتاب تو دور نہیں مدت سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ دیکھو وہ کس دلیری سے لکھتا ہے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا اور پھر آپ ہی مر گیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ میری موت کے شائق تھے اور انہوں نے خدا سے دعائیں کیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے آخر وہ مر گئے نہ ایک نہ دو بلکہ پانچ آدمی نے ایسا ہی کہا اور اس دنیا کو چھوڑ گئے نسبت بولا اور ایک آئندہ کی نسبت جھوٹی پیشگوئی کی۔ وہ کون تھا اور کیا چیز تھا جو مجھے اونچا کرتا یہ خدا کا میرے پر احسان ہے اور اس کے بعد کسی کا بھی احسان نہیں۔ اوّل اُس نے مجھے ایک بڑے شریف خاندان میں پیدا کیا اور حسب نسب کے ہر ایک داغ سے بچایا پھر بعد میں میری حمایت میں آپ کھڑا ہوا افسوس ان لوگوں کی کہاں تک حالت پہنچ گئی ہے کہ ایسی خلاف واقعہ باتیں منہ پر لاتے ہیں جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بدقسمت نے ہر ایک طور سے مجھ پر حملے کئے اور نامراد رہا لوگوں کو بیعت سے روکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزار ہا لوگ میری بیعت میں داخل ہو گئے ۔ اقدام قتل کے جھوٹے مقدمہ میں پاور یوں کا گواہ بن کر میری عزت پر حملہ کیا مگر اسی وقت کرسی مانگنے کی تقریب سے اپنی نیت کا پھل پالیا۔ میرے پرائیویٹ امور میں گندے اشتہار دیئے ان کا جواب خدا نے پہلے سے دے رکھا ہے۔ میرے بیان کی حاجت نہیں۔ منہ بقیه حاشیه