تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 334

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۳۴ تحفہ گولڑویہ آسمان پر نہیں گیا بلکہ صلیب سے نجات پا کر کسی اور ملک کی طرف چلا گیا اور وہیں مرگیا۔ چنانچہ سوپر نیچرل ریلیجن صفحہ ۵۲۲ میں اس بارے میں جو عبارت ہے اس کو ہم مع ترجمہ ذیل میں لکھتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے: پہلی تفسیر جو بعض لائق محققین نے کی ہے first explanation وہ یہ ہے کہ یسوع دراصل صلیب پر نہیں مرا بلکہ صلیب سے زندہ اتار کر اس کا جسم اس کے۔ The adopted by some able critics is that Jesus did not really die on the cross but being taken down دوستوں کے حوالہ کیا گیا اور وہ آخر بیچ نکلا۔ اس alive and his body being | عقیدہ کی تائید میں یہ دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ delivered to friends, he subsequently revived۔ In support انا جیل کے بیان کے مطابق یسوع صلیب پر تین of this theory it is argued that| گھنٹے یا چھ گھنٹہ رہ کر فوت ہوا ۔ لیکن صلیب پر Jesus is represented by Gospels ایسی جلدی کی موت کبھی پہلے واقع نہیں ہوئی as expiring after having been but three or six hours upon the cross تھی۔ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ صرف اس کے which would have been but| ہاتھوں پر میخیں ماری گئی تھیں۔ اور پاؤں پر unprecedentedly rapid death۔ It is affirmed that only the hands and میخیں نہیں لگائی گئی تھیں ۔ چونکہ یہ عام قائدہ نہ not the feet were nailed to the تھا کہ ہر ایک مصلوب کی ٹانگ توڑی جائے اس cross۔ The crucifragian not واسطے تین انجیل نویسوں نے تو اس کا کچھ ذکر ہی usually accompanying crucifixion is dismissed as unknown to the نہیں کیا۔ اور چوتھے نے بھی صرف اپنے طرز three synoptits and only inserted | بیان کی تکمیل کی خاطر اس امر کا بیان کیا اور by the fourth evangelist for dogmatic reasons and of course جہاں ٹانگ توڑنے کا ذکر نہیں ہے تو ساتھ ہی the lance disappears with