تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 333

روحانی خزائن جلدے ۳۳۳ سے بہت مشابہ تھی پیش نہ کیا اور یوحنا نبی کو جو خود یہودیوں کی نظر میں نعوذ باللہ کا ذب اور مفتری تھا پیش کر دیا جس سے یہودیوں کا اور بھی غصہ بھڑ کا اور انہوں نے خیال کیا کہ جب اس شخص کا ہمارے اس سوال کے جواب میں کسی جگہ ہاتھ نہیں پڑا تو اپنے مرشد یعنی الیاس کو ایلیا ٹھہرادیا اس خیال سے کہ وہ خواہ نخواہ تصدیق کر دے گا کہ میں ہی ایلیا ہوں مگر یہودیوں کی بدقسمتی سے حضرت یوحنا نے ایلیا ہونے سے انکار کیا اور صاف کہا کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔ اس جگہ ان دونوں کلاموں میں فرق یہ تھا کہ حضرت مسیح نے حضرت یوحنا یعنی ی نبی کو مجازی طور پر یعنی بروزی طور پر ایلیا نبی قرار دیا مگر یوجنا نے حقیقی طور کو مد نظر رکھ کر ایلیا ہونے سے انکار کر دیا اور بدقسمت یہودیوں کو یہ بھی ایک ابتلا پیش آیا کہ شاگر د یعنی عیسی کچھ کہتا ہے اور اُستاد یعنی بیجی کچھ کہتا ہے اور دونوں کے بیان باہم متناقض ہیں مگر اس جگہ ہمارا صرف یہ مقصود ہے کہ مسیح کے نزدیک دوبارہ آمدن کے وہی معنے ہیں جو مسیح نے خود بیان کر دیئے گویا یہ ایک تنقیح طلب مسئلہ تھا جو مسیح کی عدالت سے فیصلہ پا گیا اور مسیح (۱۳۹) نے انجیل متی باب ۱۷ آیت ۱۰ وا او۱۲ میں خود اپنی آمد ثانی کو ایلیا نبی کی آمد ثانی سے مشابہت دے دی اور ایلیا نبی کی آمد ثانی کی نسبت صرف یہ فرمایا کہ یوحنا کو ہی ایلیا سمجھ لو گویا ایک بڑا انجو بہ جو یہودیوں کی نظر میں تھا کہ اس عجیب طرح پر ایلیا آسمان سے اترے گا اس کو اپنے دو لفظوں سے خاک میں ملا دیا۔ اور اس قسم کے معنے قبول کرنے کے لئے عیسائیوں میں سے وہ فرقہ زیادہ استعداد رکھتا ہے جو آسمان پر جانے سے منکر ہیں چنانچہ ہم اُن محقق عیسائیوں کا ذیل میں ایک قول نقل کرتے ہیں تا مسلمانوں کو معلوم ہو کہ اُن کی طرف سے تو مسیح کے نزول کے بارے میں اس قدر شور انگیزی ہے کہ اس فضول خیال کی حمایت میں تھیں ہزار مسلمان کو کا فر ٹھہرا رہے ہیں مگر وہ لوگ جو مسیح کو خدا جانتے ہیں اُن میں سے یہ فرقہ بھی ہے جو بہت سے دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ مسیح ہر گز