تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 332

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۳۲ کے دینے میں سب سے اول نمبر پر ہے اور ہم If so, we have seen that the اس بات کو او پر ثابت کر چکے ہیں۔ great Teacher has placed himself at the head of the class۔ ان عبارات مذکورہ بالا سے ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ عیسائیوں کو حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کا اس زمانہ میں کس قدر انتظار ہے۔ اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ وقت وہی وقت ہے جس میں حضرت مسیح کو آسمان پر سے نازل ہونا چاہیے مگر ساتھ اس کے اُن میں سے اکثر کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ درحقیقت فوت ہو گئے ہیں آسمان پر نہیں گئے اس لئے جو لوگ اُن میں سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پر نہیں گئے اور نیز انجیل کے رو سے یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسی زمانہ یعنی ہجرت کی چودھویں صدی کے سر پر ان کا آنا ضروری ہے بلاشبہ اُن کو ماننا پڑتا ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آئے گی اور اُن میں سے بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آج کل عیسائی کلیسیا جو کام کر رہی ہے یہی مسیح کی آمد ثانی ہے یہ تاویل آسمانی کتابوں کے موافق نہیں ہے اور نہ کسی نبی نے کبھی ایسی تاویل کی ہے۔ تعجب کہ جس حالت میں وہ اپنی انجیلوں کے کئی مقامات میں پڑھتے ہیں کہ ایلیا نبی کا دوبارہ آنا اس طرح ہوا تھا کہ یوحنا نبی اُن کے رنگ اور خو پر آ گیا تھا تو کیوں وہ مسیح کے دوبارہ آنے کی تاویل کرنے کے وقت کلیسیا کی سرگرمی کو مسیح کی آمد کا قائم مقام سمجھ لیتے ہیں کیا مسیح نے ایلیا نبی کے دوبارہ آمد کی یہی تاویل کی ہے؟ پس جس پہلو کی تاویل حضرت مسیح کے منہ سے نکلی تھی کیوں اس کو تلاش نہیں کرتے ؟ اور ناحق سرگردانی میں پڑتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ملا کی نبی نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی تھی۔ مسیح اس کی یہ بھی تاویل کر سکتا تھا کہ جس سرگرمی سے یہودیوں کے فقیہ اور فریسی کام کر رہے ہیں یہی ایلیا کا دوبارہ آنا ہے۔ اس تاویل سے یہودی بھی خوش ہو جاتے اور شائد مسیح کو قبول کر لیتے لیکن انہوں نے اس تاویل کو جو کلیسیا کی تاویل