تحفۂ گولڑویہ — Page 326
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۲۶ تحفہ گولڑ و به چاہیے تھا۔ دس سال کے قریب اور بعض کے نزدیک ہیں سال کے قریب زیادہ گذر بھی گئے۔ اس لئے وہ لوگ پیشگوئی کے غلط نکلنے کی وجہ سے بڑی حیرت میں پڑے آخر انہوں نے اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس طرف تو نظر نہیں کی کہ مسیح موعود پیدا ہو گیا جس کو انہوں نے نہیں پہچانا لیکن تاویل کے طور پر یہ بات بنائی کہ جو کام سرگرمی سے اب ان دنوں میں کلیسیا کر رہی ہے یعنی تثلیث کی طرف دعوت اور کفارہ مسیح کی اشاعت یہی مسیح کی روحانی طور پر آمد ثانی ہے گویا مسیح نے ہی اُن کے دلوں پر نازل ہو کر اُن کو یہ جوش دیا کہ اُس کی خدائی کے مسئلہ کو دنیا میں پھیلا دیں۔ اگر تم یورپ کا سیر کرو تو اس خیال کے ہزار ہا آدمی اُن میں پاؤ گے جنہوں نے زمانہ نزول مسیح کو گذرتا ہوا دیکھ کر یہ اعتقاد دلوں میں گھڑ لیا ہے لیکن مسلمان پیشگوئی کے ان معنوں کو پسند نہیں کرتے اور نہ ایسی تاویلوں سے اپنے دلوں کو تسلی دینا چاہتے ہیں حالانکہ اُن پر بھی یہی مشکلات پڑ گئی ہیں کیونکہ بہت سے اہل کشف مسلمانوں میں سے جن کا شمار ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہو گا اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے اور نیز خدا تعالیٰ کی کلام کے استنباط سے بالا تفاق یہ کہہ گئے ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی کے سر سے ہرگز ہر گز تجاوز نہ کرے گا اور ممکن نہیں کہ ایک گروہ کثیر اہل کشف کا کہ جو تمام اولین اور آخرین کا مجمع ہے وہ سب جھوٹے ہوں اور ان کے تمام استنباط بھی جھوٹے ہوں اس لئے اگر مسلمان اس وقت مجھے قبول نہ کریں جو قرآن اور حدیث اور پہلی کتابوں کے رو سے اور تمام اہل کشف کی شہادت کے رو سے چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوا ہوں تو آئندہ اُن کی ایمانی حالت کے لئے سخت اندیشہ ہے کیونکہ میرے انکار سے اب اُن کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ جس قدر قرآن شریف سے مسیح موعود کے لئے علماء کبار نے استنباط کئے تھے وہ سب جھوٹے تھے اور جس قدر اہل کشف نے زمانہ مسیح موعود کے لئے خبریں دی تھیں وہ خبریں بھی سب جھوٹی تھیں اور جس قدر آسمانی اور زمینی نشان حدیث کے مطابق ظہور میں آئے جیسے رمضان میں عین تاریخوں کے مطابق خسوف کسوف ہو جانا ۔ زمین پر