تحفۂ گولڑویہ — Page 323
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۲۳ تحفہ گولڑ و به پہلی کتابیں بھی مسیح موعود کے ظہور کا یہی زمانہ مقرر کرتی ہیں۔ چنانچہ دان ایل کی کتاب میں صاف ارضی قومی کا عطر ہے جو اب وہ یا جوج ماجوج کے ذریعہ سے نکل رہا ہے۔ لہذا یا جوج ماجوج کا ظہور اور بروز اور اپنی تمام قوتوں میں کامل ہونا اس بات کا نشان ہے کہ انسانی وجود کی تمام ارضی طاقتیں ظہور میں آگئیں اور انسانی فطرت کا دائرہ اپنے کمال کو پہنچ گیا اور کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی۔ پس ایسے وقت کیلئے رجعت بروزی ایک لازمی امر تھا۔ اس لئے اسلامی عقیدہ میں یہ ۱۳۳ ) داخل ہو گیا کہ یا جوج ماجوج کے ظہور اور اقبال اور فتح کے بعد گذشتہ زمانہ کے اکثر اخیارا برار کی رجعت بروزی ہوگی اور جیسا کہ اس مسئلہ پر مسلمانوں میں سے اہل سنت زور دیتے ہیں ایسا ہی شیعہ کا بھی عقیدہ ہے مگر افسوس کہ یہ دونوں گروہ اس مسئلہ کی فلاسفی سے بے خبر ہیں ۔ اصل بھید ضرورت رجعت کا تو یہ تھا کہ استدارت دائرہ خلقت بنی آدم کے وقت میں جو ہزا ر ششم کا آخر بے نقاط خلقت کا اس سمت کی طرف آجانا ایک لازمی امر ہے جس سمت سے ابتدائے خلقت ہے کیونکہ کوئی دائرہ جب تک اس نقطہ تک نہ پہنچے جس سے شروع ہوا تھا کامل نہیں ہو سکتا اور بالضرورت دائرہ کے آخری حصہ کو رجعت لازم پڑی ہوئی ہے لیکن اس بھید کو سطحی عقلیں دریافت نہیں کر سکیں اور ناحق کلام اللہ کے برخلاف یہ عقیدہ بنا لیا کہ گویا تمام گذشتہ روحیں نیکیوں اور بدوں کی واقعی طور پر پھر دوبارہ دنیا میں آجائیں گی مگر اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ صرف رجعت بروزی ہوگی نہ حقیقی اور وہ اس طرح پر کہ وہی نحاش جس کا دوسرا نام خناس ہے جس کو دنیا کے خزانہ دیئے گئے ہیں جو اؤل حوا کے پاس آیا تھا اور اپنی دجالیت سے حیات ابدی کی اُس کو طمع دی تھی پھر بروزی طور پر آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا اور زن مزاج اور ناقص العقل لوگوں کو اس وعدہ پر حیات ابدی کی طمع دے گا کہ وہ تو حید کو چھوڑ دیں لیکن خدا نے جیسا کہ آدم کو بہشت میں یہ نصیحت کی تھی کہ ہر ایک پھل تمہارے لئے حلال ہے بے شک کھا ؤ لیکن اس درخت کے نزدیک مت جاؤ کہ یہ حرمت کا درخت ہے۔ اسی طرح خدا نے قرآن میں فرمایا وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذلِك الخ یعنی النساء: ۴۹