تحفۂ گولڑویہ — Page 322
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۲۲ تحفہ گولڑویہ وہ یہ ہے کہ نہ فقط قرآن شریف ہی مسیح موعود کے ظہور کا یہ زمانہ ٹھہراتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی سر پر آتا ہے جو حروف کے سلسلہ کا آخری حرف ہے۔ گویا اس طرح پر یہ سلسلہ الف سے شروع ہو کر اور پھر حرف یا پرختم ہوکر اپنے طبعی کمال کو پہنچ گیا۔ خلاصہ کلام یہ کہ آیت ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بروزی رجوع جو استدارت دائرہ خلقت بنی آدم کے لئے ضروری ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ یا جوج ماجوج کا ظہور اور خروج اقوئی اور اتم طور پر ہو جائے اور ان کے ساتھ کسی غیر کو طاقت مقابلہ نہ رہے کیونکہ دائرہ کے کمال کو یہ لازم ہے کہ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا کا مفہوم کامل طور پر پورا ہو جائے اور تمام ارضی قوتوں کا ظہور اور بروز ہو جائے اور یا جوج ماجوج کا وجود اس بات پر دلیل کامل ہے کہ جو کچھ ارضی قو تیں اور طاقتیں انسان کے وجود میں ودیعت ہیں وہ سب ظہور میں آگئی ہیں کیونکہ اس قوم کی فطرتی اینٹ ارضی کمالات کے پڑا وہ میں ایسے طور سے پختہ ہوئی ہے کہ اس میں کسی کو بھی کلام نہیں۔ اسی سر کی وجہ سے خدا نے ان کا نام یا جوج ماجوج رکھا کیونکہ ان کی فطرت کی مٹی ترقی کرتے کرتے کانی جواہرات کی طرح آتشی مادہ کی پوری وارث ہو گئی اور ظاہر ہے کہ مٹی کی ترقیات آخر جواہرات اور فلذات معدنی پر ختم ہو جاتی ہیں۔ تب معمولی مٹی کی نسبت اُن جواہرات اور فلذات میں بہت سا مادہ آگ کا آجاتا ہے گویا مٹی کا انتہائی کمال نے کمال یافتہ کو آگ کے قریب لے آتا ہے اور پھر جنسیت کی کشش کی وجہ سے دوسرے آتشی لوازم اور کمالات بھی اسی مخلوق کو دیئے جاتے ہیں۔ غرض بنی آدم کا یہ آخری کمال ہے کہ بہت سا آتشی حصہ اُن میں داخل ہو جائے اور یہ کمال یا جوج ماجوج میں پایا جاتا ہے۔ اور جو کچھ اس قوم کو دنیا اور دنیا کی تدابیر میں دخل ہے اور جس قدر اس قوم نے دنیوی زندگی کو رونق اور ترقی دی ہے اس سے بڑھ کر کسی کے قیاس میں متصور نہیں۔ پس اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ انسان کے الزلزال : ٣