تحفۂ گولڑویہ — Page 313
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۱۳ تحفہ گولڑویہ ترجمہ: وہ یہ دلائل دیتے ہیں کہ اگرچہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ۱۳۸ ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے۔ اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشیخ میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ قریب 1 گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا۔ تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبودار دوائیاں مل کر اُسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اُس کی بیہوشی دور ہوئی۔ اس دعوے کی دلیل میں عموماً یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے۔ پس میں نے ٹیٹس (حاکم وقت) سے اُن کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور اُن کو فوراً اتار کر اُن کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دومر گئے ۔“ اور کتاب ماڈرن ڈاؤٹ اینڈ کرسچن بیلیف“ کے صفحہ ۳۴۷,۴۵۷,۴۵۵ میں یہ عبارت ہے: ☆۔ The former of these hypotheses that of apparent death, was employed by the old more recently by۔ Rationalists, and۔ Schleiermacher in his life of Christ۔۔۔۔۔۔۔ Schleiermacher's supposition, that Jesus afterwards lived for a time with the disciples, and then retired into entire solitude for his second death۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمه: شلیر میر اور نیز قدیم محققین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہر آموت کی سی حالت ہو گئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد۔ Modern Doubt & Christian Belief P۔347,455,457