تحفۂ گولڑویہ — Page 286
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۸۶ تحفہ گولڑویہ کہ اکثر صوفی جو ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہیں اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے اس بات کی طرف گئے ہیں کہ مسیح موعود تیرھویں صدی میں یعنی ہزار ششم کے آخر میں پیدا ہو گا چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب کا الہام ”چراغ دین جو مہدی معہود کی پیدائش کے بارے میں ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ ظہور کا وقت ہزار ششم کا آخر ہے۔ اسی طرح بہت سے اکابر امت نے پیدائش مسیح موعود کے لئے ہزار ششم کا آخر لیا ہے اور چودھویں صدی اس کے بعث اور ظہور کی تاریخ لکھی ہے اور چونکہ مومن کے لئے خدا تعالیٰ کی کتاب سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں اس لئے اس بات سے انکار کرنا کہ مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہزار ششم کا آخر ہے خدا تعالیٰ کی کتاب سے انکار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ سے مشابہت دے کر خود ظاہر فرما دیا ہے کہ پیدائش مسیح موعود ہزار ششم کے آخر میں ہے۔ پھر ماسوا اس کے صورت عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ششم میں زمین پر ایک انقلاب عظیم آیا ہے۔ بالخصوص اس ساٹھ برس کی مدت میں کہ جو تخمینا میری عمر کا اندازہ ہے اس قدر صریح تغیر صفحہ ہستی پر ظہور پذیر ہے کہ گویا وہ دنیا ہی نہیں رہی نہ وہ سواریاں رہیں اور نہ وہ طریق تمدن رہا اور نہ بادشاہوں میں وہ وسعت اقدار حکومت رہی نہ وہ راہ رہی اور نہ وہ مرکب ۔ اور یہاں تک ہر ایک بات میں جدت ہوئی کہ انسان کی پہلی طرزیں تمدن کی گویا تمام منسوخ ہو گئیں اور زمین اور اہل زمین نے ہر ایک پہلو میں گویا پیرا یہ جدید پہن لیا اور بدلت الارض غیر الارض کا نظارہ آنکھوں کے سامنے آگیا اور ایک دوسرے رنگ میں بھی انقلاب نے اپنا نظارہ دکھلایا یعنی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں پیشگوئی کے طور پر فرمایا تھا کہ ایک وہ نازک وقت آنے والا ہے کہ قریب ہے کہ تثلیث کے غلبہ کے وقت آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں۔ یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں اور اس قدرحد سے زیادہ عیسائیت کی دعوت اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں غلو کیا گیا