تحفۂ گولڑویہ — Page 285
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۸۵ تحفہ گولڑویہ روز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم اسی حساب سے سورۃ والعصر کے اعداد لکھ کر ثابت کر چکے ہیں کہ اس عاجز کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی جبکہ یوم محمدی میں سے صرف گیارہ سال باقی رہتے تھے جو اس دن کا آخری حصہ ہے۔ یادر ہے کر چکے ہیں۔ اور اس سورۃ کی بددعا که اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الظَّالِينَ به صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اس امت کے لئے ایک آنے والے گروہ مغضوب علیھم کے ظہور سے اور دوسرے گروہ ضالین کے غلبہ کے زمانہ میں ایک سخت ابتلا در پیش ہے جس سے بچنے کے لئے پانچ وقت دعا کرنی چاہئے ۔ اور یہ دعا سورۃ فاتحہ کی اس طور پر سکھائی گئی کہ پہلے الحمد الله سے مالک یوم الدین تک خدا کے محامد اور صفات جمالیہ اور جلالیہ ظاہر فرمائے گئے تا دل بول اٹھے کہ وہی معبود ہے چنانچہ انسانی فطرت نے ان پاک صفات کا دلدادہ ہوکر ایاک نعبد کا اقرار کیا اور پھر اپنی کمزوری کو دیکھا تو ایاک نستعین کہنا پڑا۔ پھر خدا سے مدد پاکر یہ دعا کی جو جمیع اقسام شر سے بچنے کیلئے اور جمیع اقسام خیر کو جمع کرنے کیلئے کافی ووافی ہے۔ یعنی یہ دعا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " آمین ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ سعادت تامہ تبھی حاصل ہوتی ہے که انسان ان تمام شتر وں اور بدیوں سے محفوظ رہے جن کا کوئی نمونہ قیامت تک ظاہر ہونے والا ہے اور نیز تمام نیکیاں حاصل ہوں جو قیامت تک ظاہر ہونے والی ہیں۔ سوان دونوں پہلوؤں کی یہ دُعا جامع ہے۔ ایسا ہی قرآن کریم کے آخر کی تین سورتوں میں سے اول سورۃ اخلاص میں یہ سکھلایا گیا کہ قُلْ هُوَ الله احد کے اور اس آیت میں وہ عقیدہ جو قبول کرنے کے لائق ہے پیش کیا گیا اور پھر لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ کے سکھا کر وہ عقیدہ جورڈ کرنے کے لائق ہے وہ بیان کیا گیا۔ اور پھر سورۃ فلق میں یعنی آیت وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ۵ میں آنے والے ایک سخت تاریکی سے ڈرایا گیا اور فقره قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں آنے والی ایک صبح صادق کی بشارت دی گئی اور اس مطلب کے حصول کے لئے سورۃ الناس میں صبر اور ثبات کے ساتھ وساوس سے بچنے کیلئے تاکید کی گئی۔ منہ و الفاتحة: ٢، ٣ الاخلاص ٢ ٢ الاخلاص: ۴ ۵ الفلق ۴ - الفلق : ٢