تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 284

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۸۴ تحفہ گولڑویہ یعنی نزول عیسی محمدی دن کے عصر کے وقت میں ہوگا جب تین حصے اُس دن کے گذر چلیں گے۔ یعنی ہزار ششم کا آخری حصہ کچھ باقی رہے گا اور باقی سب گذر چکے گا اس وقت عیسی کی روح زمین پر آئے گی۔ یادر ہے کہ صوفیہ کی اصطلاح میں یوم محمدی سے مراد ہزار سال ہے جو اس کے وقت میں رحمت کی نشانیاں بھی رکھی ہیں اور قہر کی بھی تا دونوں رنگ جمالی اور جلالی ثابت ہو جائیں۔ آخری زمانہ کی نسبت خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ آفتاب اور ماہتاب ایک ہی وقت میں تاریک ہو جائیں گے زمین پر جابجا خسف واقع ہوگا۔ پہاڑ اڑائے جائیں گے۔ یہ سب قہری اور د جلالی نشانیاں ہیں۔ عیسائیت کے غلبہ کے زمانہ کی نسبت بھی اسی قسم کے اشارات قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ لکھا ہے کہ قریب ہے کہ اس دین کے غلبہ کے وقت آسمان پھٹ جائیں اور زمین میں بذریعہ خسف وغیرہ ہلاکتیں واقع ہوں ۔ غرض وجود آدم ثانی بھی جامع جلال و جمال ہے اور اسی وجہ سے آخر ہزار ششم میں پیدا کیا گیا اور ہزار ششم کے حساب سے دنیا کے دنوں کا یہ جمعہ ہے اور جمعہ میں سے یہ عصر کا وقت ہے جس میں یہ آدم پیدا ہوا۔ اور سورۃ فاتحہ میں اس مقام کے متعلق ایک لطیف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ چونکہ سورۃ فاتحہ ایک ایسی سورۃ ہے جس میں مبدء اور معاد کا ذکر ہے یعنی خدا کی ربوبیت سے لے کر یوم الدین تک سلسلہ صفات الہیہ کو پہنچایا ہے اس مناسبت کے لحاظ سے حکیم ازلی نے اس سورۃ کو سات آیتوں پر تقسیم کیا ہے تا دنیا کی عمر میں سات ہزار کی طرف اشارہ ہو۔ اور چھٹی آیت اس سورۃ کی اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطر میں خدا کی جناب سے ایک بادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو ۔ اور ضالین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے۔ یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔ یہ سورۃ در حقیقت بڑے دقائق اور حقائق کی جامع ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان