تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 279

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۷۹ تحفہ گولڑویہ يه حاش سے خوش ہوتے ہیں لیکن آسمان کی رُوح اُن کے اندر نہیں محض دنیا کے کیڑے ہیں وہ روح کے بُلائے نہیں بولتے بلکہ کورانہ تقلید یا نفسانی اغراض اُن کی زبان کھولتے ہیں۔ خدا نے 1 دابة الارض اُن کا نام اسی وجہ سے رکھا ہے کہ کوئی آسمانی مناسبت ان کے اندر نہیں ۔ کہ آدم جمعہ کے آخری حصہ میں پیدا کیا گیا۔ اور اگر یہ شبہ دامنگیر ہو کہ ممکن ہے کہ آدم ساتویں دن پیدا کیا گیا ہو تو اس شبہ کو یہ آیت دور فرماتی ہے جو سورۃ حدید کی چوتھی آیت ہے اور وہ یہ ہے۔ ھو الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ، دیکھو سورة الحديد الجز و نمبر ۲۷۔ ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ خداوہ ہے جس نے تمام زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر اس نے استوار کیا۔ یعنی کل مخلوق کو و چھ دن میں پیدا کر کے پھر صفات عدل اور رحم کو ظہور میں لانے لگا۔ خدا کا الوہیت کے تخت پر بیٹھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کے بنانے کے بعد ہر ایک مخلوق سے بمقتضائے عدل اور رحم اور سیاست کارروائی شروع کی یہ محاورہ اس سے لیا گیا ہے کہ جب کل اہل مقدمہ اور ارکان دولت اور لشکر با شوکت حاضر ہو جاتے ہیں اور کچہری گرم ہو جاتی ہے اور ہر ایک حقدار اپنے حق کو عدل شاہی سے مانگتا ہے اور عظمت اور جبروت کے تمام سامان مہیا ہو جاتے ہیں تب بادشاہ سب کے بعد آتا ہے اور تخت عدالت کو اپنے وجود باجود سے زینت بخشتا ہے۔ غرض ان آیات سے ثابت ہوا کہ آدم جمعہ کے اخیر حصے میں پیدا کیا گیا کیونکہ روز ششم کے بعد سلسلہ پیدائش کا بند کیا گیا۔ وجہ یہ کہ روز ہفتم تخت شاہی پر بیٹھنے کا دن ہے نہ پیدائش کا۔ یہودیوں نے ساتویں دن کو آرام کا دن رکھا ہے مگر یہ ان کی غلط نہی ہے بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ جب انسان ایک عظیم کام سے فراغت پالیتا ہے تو پھر گویا اُس وقت اس کے آرام کا وقت ہوتا ہے سوایسی عبارتیں توریت میں بطور مجاز ہیں نہ یہ کہ در حقیقت خدا تعالیٰ تھک گیا اور بوجہ يه خسته در ماندہ ہونے کے اس کو آرام کرنا پڑا۔ اور ان آیات کے متعلق ایک یہ بھی امر ہے کہ فرشتوں کا جناب الہی میں عرض کرنا کہ ا الحديد : ۵