تحفۂ گولڑویہ — Page 273
روحانی خزائن جلد ۱۷ بقیه حاشیه ۲۷۳ تحفہ گولڑویہ اور اعلیٰ اقسام عبادت کی حمد ہے جو صفات باری کی معرفت تامہ کو چاہتی ہے اور بغیر اب واضح ہو کہ خناس شیطان کے ناموں میں سے ایک نام ہے یعنی جب شیطان سانپ کی سیرت پر قدم مارتا ہے اور کھلے کھلے اکراہ اور جبر سے کام نہیں لیتا اور سراسر مکر اور فریب اور وسوسہ اندازی سے کام لیتا ہے اور اپنی نیش زنی کے لئے نہایت پوشیدہ راہ اختیار کرتا ہے تب اُس کو خناس کہتے ہیں عبرانی میں اس کا نام نحاش ہے۔ چنانچہ توریت کے ابتداء میں لکھا ہے کہ نحاش نے حوا کو بہکایا اور حوا نے اس کے بہکانے سے وہ پھل کھایا جس کا کھانا منع کیا گیا تھا۔ تب یادر ہے کہ یہ حوا کا گناہ تھا کہ براہ راست شیطان کی بات کو مانا اور خدا کے حکم کو توڑا۔ اور بیچ تو یہ ہے کہ حوا کا نہ ایک گناہ بلکہ چار گناہ تھے (۱) ایک یہ کہ خدا کے حکم کی بے عزتی کی اور اُس کو جھوٹا سمجھا (۲) دوسرا یہ کہ خدا کے دشمن اور ابدی لعنت کے مستحق اور جھوٹ کے پتلے شیطان کو سچا سمجھ لیا (۳) تیسرا یہ کہ اس نافرمانی کو صرف عقیدہ تک محدود نہ رکھا بلکہ خدا کے حکم کو تو ڑ کر عملی طور پر ارتکاب معصیت کیا (۴) چوتھا یہ کہ حوا نے نہ صرف آپ ہی خدا کا حکم تو ڑا بلکہ شیطان کا قائم مقام بن کر آدم کو بھی دھوکا دیا تب آدم نے محض حوا کی دھوکا دہی سے وہ پھل کھایا جس کی ممانعت تھی اسی وجہ سے حوا خدا کے نزدیک سخت گنہ گار مظہری مگر آدم معذور سمجھا گیا محض ایک خفیف خطا جیسا کہ آیت کریمہ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزّمان سے ظاہر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آدم حاشیه نے عمد امیرے حکم کو نہیں تو ڑا بلکہ اس کو یہ خیال گذرا کہ حوا نے جو یہ پھل کھایا اور مجھے دیا شائداس کو خدا کی اجازت ہو گئی جو اس نے ایسا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب میں حوا کی بریت ظاہر نہیں فرمائی مگر آدم کی بریت ظاہر کی یعنی اُسکی نسبت لم نجد له عزما فرمایا اور حوا کو سزا سخت دی۔ مرد کا محکوم بنایا اور اس کا دست نگر کر دیا اور حمل کی مصیبت اور بچے جنے کا دُکھ اس کو لگا دیا اور آدم چونکہ خدا کی صورت پر بنایا گیا تھا اس لئے شیطان اس کے سامنے نہ آسکا۔ اسی جگہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس شخص کی پیدائش میں نر کا حصہ نہیں وہ کمزور ہے اور توریت کے رو سے اس کی نسبت کہنا مشکل ہے کہ وہ خدا کی صورت پر یا خدا کی مانند پیدا کیا گیا ہاں آدم بھی ضرور مر گیا لیکن یہ موت گناہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ مرنا ابتدا سے انسانی بناوٹ کا خاصہ تھا اگر گناہ نہ کرتا تب بھی مرتا۔مـــــــه