تحفۂ گولڑویہ — Page 272
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۷۲ تحفہ گولڑویہ ☆ ۱۰۵ کے رنگ میں المعبود کے ساتھ اس کا تعلق ہوا اور اس کا نام احمد رکھا کیونکہ الطف یہ تمام اشارات عیسائی پادریوں کی طرف ہیں کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو وہ دنیا میں شر پھیلائیں گے اور دنیا کو تاریکی سے بھر دیں گے اور جادو کی طرح ان کا دھوکا ہوگا اور وہ سخت حاسد ہوں گے اور اسلام کو حسد کی راہ سے بنظر تحقیر دیکھیں گے اور لفظ ربّ الفلق اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس تاریکی کے بعد پھر صبح کا زمانہ بھی آئے گا جو مسیح موعود کا زمانہ ہے۔ اس مقابلہ سے جو سورۃ اخلاص سے سورۃ فلق کا کیا گیا ظاہر ہے کہ ان دونوں سورتوں میں ایک ہی فرقہ کا ذکر ہے صرف یہ فرق ہے کہ سورۃ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت کا بیان ہے اور سورۃ الفلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے اور اس فرقہ کا نام سورۃ الفلق میں شر ما خلق رکھا گیا ہے یعنی شتر البریہ اور احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ د قبال معہود کا نام بھی شتر البریہ ہے کیونکہ آدم کے وقت سے اخیر تک شر میں اُس کے برابر کوئی نہیں ۔ پھر ان دونوں صورتوں کے بعد سورۃ الناس ہے ۔ اور وہ یہ ہے ۔ قُل اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۔ یعنی وہ جو انسانوں کا پروردگار اور انسانوں کا بادشاہ اور انسانوں کا خدا ہے میں وسوسہ انداز خناس کے وسوسوں سے اس کی پناہ مانگتا ہوں ۔ وہ خناس جو انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے جو جنوں اور آدمیوں میں سے ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اس خناس کی وسوسہ اندازی کا وہ زمانہ ہو گا کہ جب اسلام کے لئے نہ کوئی مربی اور عالم ربانی زمین پر موجود ہوگا اور نہ اسلام میں کوئی حامی دین بادشاہ ہو گا تب مسلمانوں کے لئے ہر ایک موقع پر خدا ہی پناہ ہوگا وہی خدا وہی مربی وہی بادشاہ و بس۔ ایڈیشن اول میں سہو کتابت ہے درست لفظ ” ہو ہے۔(ناشر) لا الناس : ۲ تا ۷