تحفۂ گولڑویہ — Page 260
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۶۰ اسی روحانی جمعہ کی طرف اشارہ ہے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دو بعث مقدر تھے۔ (۱) ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے (۲) دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے اور یہ دونوں قسم کی تکمیل روز ششم سے وابستہ تھی تا خاتم الانبیاء کی مشابہت خاتم المخلوقات سے اتم اور اکمل طور پر ہو جائے۔ اور تا دائرہ خلقت اپنے استدارت کا ملہ کو پہنچ جائے ۔ سو ایک تو وہ روز ششم تھا جس میں آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم نازل ہوئی ۔ اور دوسرے وہ روز ششم ہے جس کی نسبت آیت لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّم میں وعدہ تھا یعنی آخری حصہ ہزار ششم ۔ اور اسلام میں جو روز ششم کو عید کا دن مقرر کیا گیا یعنی جمعہ کو یہ بھی درحقیقت اس کی طرف اشارہ ہے کہ روز ششم تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کا دن ہے۔ اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے اور آپ کی شریعت تمام دنیا کے لئے عام تھی اور آپ کی نسبت فرمایا گیا تھا ولكن رسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ ) اور نیز آپ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي (١٠٠) رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا سوا گر چہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسی تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئیں لیکن مضمون آیت قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم | کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہو سکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اسوقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دئیے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ۱۲۵۷ ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کا ملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کل المائدة : الصف ١٠ الاحزاب : ۴۱ ۴، ۵ الاعراف : ۱۵۹