تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 258

روحانی خزائن جلد ۷ ۲۵۸ خاتم الانبیاء ہیں جیسا کہ آدم علیہ السلام خاتم المخلوقات ہیں۔ پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جیسا کہ اُس نے حضور نبوی کی مشابہت حضرت آدم سے مکمل کرنے کے لئے تکمیل ہدایت قرآنی کا چھٹا دن مقرر کیا یعنی روز جمعہ اور اسی دن یہ آیت نازل ہوئی کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ! ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے الف سادس یعنی چھٹا ہزار مقرر فرمایا جو حسب تصریح آیات قرآنی بمنزلہ روز ششم ہے۔ اب میں دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ تکمیل ہدایت کے دن میں تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں موجود تھے اور وہ روز یعنی جمعہ کا دن جو دنوں میں سے چھٹا دن تھا مسلمانوں کے لئے بڑی خوشی کا دن تھا جب آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي : نازل ہوئی اور قرآن جو تمام آسمانی کتابوں کا آدم اور جمیع معارف صحف سابقہ کا جامع تھا اور مظہر جمیع صفات الہیہ تھا اس نے آدم کی طرح چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن اپنے وجود با جود کو اتم اور اکمل طور پر ظاہر فرمایا۔ یہ تو تکمیل ہدایت کا دن تھا مگر تکمیل اشاعت کا دن اس دن کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ابھی وہ وسائل پیدا نہیں ہوئے تھے جو تمام دنیا کے تعلقات کو باہم ملا دیتے اور بڑی اور بحری سفروں کو مسافروں کے لئے سہل کر دیتے اور دینی کتابوں کی ایک کثیر مقدار قلمبند کرنے کے لئے جو تمام دنیا کے حصہ میں آسکے آلات زود نویسی کے مہیا کر دیتے اور نہ مختلف زبانوں کا علم نوع انسان کو حاصل ہوا تھا اور نہ تمام مذاہب ایک دوسرے کے مقابل پر آشکارا طور پر ایک جگہ موجود تھے ۔ اس لئے وہ حقیقی اشاعت جو ا تمام 99 حجت کے ساتھ ہر ایک قوم پر ہوسکتی ہے اور ہر ایک ملک تک پہنچ سکتی ہے نہ اس کا وجود تھا اور نہ معمولی اشاعت کے وسائل موجود تھے۔ لہذا تکمیل اشاعت کے لئے ایک اور زمانہ علم الہی نے مقرر فرمایا۔ جس میں کامل تبلیغ کے لئے کامل وسائل موجود تھے اور ضرور تھا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہوئی ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت بھی ٢٠١ المائدة : ۴