تحفۂ گولڑویہ — Page 253
روحانی خزائن جلد ۷ ۲۵۳ ۳۸ تحفہ گولڑویہ حاشیہ پر جابجا تاریخیں لکھتے ہیں صرف اٹھتیس برس کا فرق ہے ۔ اور یہ قرآن شریف کے علمی معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس پر تمام افراد امت محمدیہ میں سے خاص مجھ کو جو میں مہدی آخر الزمان ہوں اطلاع دی گئی ہے تا قرآن کا یہ علمی معجزہ اور نیز اس سے اپنے دعوے کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کروں۔ اور ان دونوں حسابوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ جس کی خدا تعالیٰ نے سورۃ والعصر میں قسم کھائی الف خامس ہے یعنی (۹۲) ہزار پنجم جو مریخ کے اثر کے ماتحت ہے۔ اور یہی سر ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو اُن مفسدین کے قتل اور خونریزی کے لئے حکم فرمایا گیا جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور قتل کرنا چاہا اور اُن کے استیصال کے درپے ہوئے اور یہی خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن سے مریخ کا اثر ہے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اوّل کا زمانہ ہزارہ پنجم تھا جو سم محمد کا مظہر تجلی تھا۔ یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو ☆ اسم جمالی ہے جیسا کہ آیت وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِ مِنْ بَعْدِي اسْمُةَ أَحْمَدُ حمد یہ باریک بھید یا در رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث دوم میں تجلی اعظم جو اکمل اور اتم ہے وہ صرف اسم احمد کی تجلی ہے کیونکہ بعث دوم آخر ہزار ششم میں ہے اور ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے جو کو کب ششم منجملہ حنس كنس ہے اور اس ستارہ کی یہ تاثیر ہے کہ مامورین کو خونریزی سے منع کرتا اور عقل اور دانش اور مواد استدلال کو بڑھاتا ہے۔ اس لئے اگر چہ یہ بات حق ہے کہ اس بحث دوم میں بھی اسم محمد کی تجلی سے جو جلالی تجلی ہے اور جمالی تجلی کے ساتھ شامل ہے مگر وہ جلالی تجلی بھی روحانی طور پر ہو کر جمالی رنگ کے مشابہ ہوگئی ہے کیونکہ اس وقت جلالی تجلی کی تاثیر قہر سیفی نہیں بلکہ قہر استدلالی ہے ۔ وجہ یہ کہ اس وقت کے مبعوث پر پر تو ستارہ مشتری ہے نہ پر تو مریخ۔ اسی وجہ سے بار بار اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ ہزار ششم فقط اسم احمد کا مظہر اتم ہے جو جمالی جلی کو چاہتا ہے ۔ منہ الجمعة : الصف :