تحفۂ گولڑویہ — Page 252
روحانی خزائن جلد ۷ ۲۵۲ کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے یعنی تیس برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدت گذشته (۱۳) زمانہ کے ساتھ ملا کر ۳۹ ۴۷ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روز (۹۵) وفات تک قمری حساب سے ہیں ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الف خامس میں جو مریخ کی طرف منسوب ہے مبعوث ہوئے ہیں اور شمسی حساب سے به مدت ۴۵۹۸ ہوتی ہے اور عیسائیوں کے حساب سے جس پر تمام مدار بائبل کا رکھا گیا ہے ۴۶۳۶ برس ہیں یعنی حضرت آدم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اخیر زمانہ تک ۴۶۳۶ برس ہوتے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ قرآنی حساب جو سورۃ العصر کے اعداد سے معلوم ہوتا ہے اور عیسائیوں کی بائبل کے حساب میں جس کے رو سے بائبل کے جو اس حساب کے رو سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے سو جیسا کہ آدم علیہ السلام اخیر حصہ میں پیدا ہوا ایسا ہی میری پیدائش ہوئی خدا نے منکروں کے عذروں کو توڑنے کے لئے یہ خوب بندو بست کیا ہے کہ مسیح موعود کے لئے چار ضروری علامتیں رکھ دی ہیں (۱) ایک یہ کہ اس کی پیدائش حضرت آدم کی پیدائش کے رنگ میں آخر ہزار ششم میں ہو۔ (۲) دوسری یہ کہ اس کا ظہور و بروز صدی کے سر پر ہو (۳) تیسری یہ کہ اس کے دعوئی کے وقت آسمان پر رمضان کے مہینہ میں خسوف کسوف ہو (۴) چوتھی یہ کہ اس کے دعوے کے وقت میں بجائے اونٹوں کے ایک اور سواری دنیا میں پیدا ہو جائے۔ اب ظاہر ہے کہ چاروں علامتیں ظہور میں آچکی ہیں۔ چنانچہ مدت ہوئی کہ ہزار ششم گذر گیا اور اب قریباً پچاسواں سال اس پر زیادہ جا رہا ہے۔ اور اب دنیا ہزار ہفتم کو بسر کر رہی ہے اور صدی کے سر پر سے بھی سترہ برس گزر گئے اور خسوف کسوف پر بھی کئی سال گذر چکے اور اونٹوں کی جگہ ریل کی سواری بھی نکل آئی پس اب قیامت تک کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میں مسیح موعود ہوں کیونکہ اب مسیح موعود کی پیدائش اور اُس کے ظہور کا وقت گذر گیا۔ منہ