تحفۂ گولڑویہ — Page 251
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۵۱ تحفہ گولڑویہ آخری حصہ بھی جس میں ہم ہیں کسی آدم کے پیدا ہونے کا وقت اور کسی دینی تکمیل کے ظہور کا زمانہ نہ ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کا یہ الہام کہ اردت ان استخلف فخلقت آدم } اور یہ الہام کہ لیظهره على الدين كله اس پر دلالت کر رہا ہے ۔ اور یادر ہے کہ اگر چه قرآن شریف کے ظاہر الفاظ میں عمر دنیا کی نسبت کچھ ذکر نہیں لیکن قرآن میں بہت سے ایسے اشارات بھرے پڑے ہیں جن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عمر دنیا یعنی دور آدم کا زمانہ سات ہزار سال ہے چنانچہ منجملہ ان اشارات قرآنی کے ایک یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حساب کی اور شمسی حساب سے اگر سات ہزار سال ہو تو قمری حساب سے قریباً دوسو برس اور اوپر چاہئے اور ماسوا اس کے چونکہ عرب کی عادت میں یہ داخل ہے کہ وہ کسور کو حساب سے ساقط رکھتے ہیں اور مخل مطلب نہیں سمجھتے اس لئے ممکن ہے کہ سات ہزار سے اس قدر زیادہ بھی ہو جائے جو آٹھ ہزار تک نہ پہنچے۔ مثلاً دو تین سو برس اور زیادہ ہو جائیں تو اس صورت میں با وجود بیان اس مدت کے وہ خاص ساعت تو مخفی کی مخفی ہی رہی اور یہ مدت بطور ایک علامت کے ہوئی جیسا کہ انسان کی موت کی گھڑی جو قیامت صغری ہے مخفی ہے مگر یہ علامت ظاہر ہے کہ ایک سو بیس برس تک انسان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور پیرانہ سالی بھی اس کی موت کی ایک علامت ہے ایسا ہی امراض مہلکہ بھی علامت موت ہیں اور نیز اس میں کیا شک ہے کہ قرآن شریف میں قرب قیامت کی بہت سی علامتیں بیان فرمائی گئی ہیں اور ایسا ہی احادیث میں بھی۔ پس منجملہ ان کے سات ہزار سال بھی ایک علامت ہے۔ یہ بھی یادر ہے کہ قیامت بھی کئی قسم پر منقسم ہے اور ممکن ہے کہ سات ہزار سال کے بعد کوئی قیامت صغری ہو جس سے دنیا کی ایک بڑی تبدیلی مراد ہو نہ قیامت کبری ۔ منہ حاشیه