تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 250

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۵۰ آہستہ طیار ہو رہا تھا اور تمام جمادی نباتی حیوانی پیدائشوں کے ساتھ بھی شریک تھا لیکن کمال خلقت کا دن چھٹا دن تھا۔ اور قرآن شریف بھی گو آہستہ آہستہ پہلے سے نازل ہو رہا تھا مگر اس کا کامل وجود بھی چھٹے دن ہی بروز جمعہ اپنے کمال کو پہنچا اور آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم نازل ہوئی اور انسانی نطفہ بھی اپنے تغیرات کے چھٹے مرتبہ ہی خلقت بشری سے پورا حصہ پاتا ہے جس کی طرف آیت ثُمَّ انْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ لَ میں اشارہ ہے۔ اور مراتب ستہ یہ ہیں (۱) نطفہ (۲) علقہ (۳) مضغه (۴) عظام (۵) لحم محیط العظام (۶) خلق آخر ، اس قانون قدرت سے جو روز ششم اور مرتبہ ششم کی نسبت معلوم ہو چکا ہے ماننا پڑتا ہے کہ دنیا کی عمر کا ہزار ششم بھی یعنی اس کا کہ وہ بعث ہزار ششم کے اخیر پر ہو گا۔ اسی حدیث سے اس بات کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ مہدی معہود اور مسیح موعود جو مظہر تجلیات محمد یہ ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعث دوم موقوف ہے وہ چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو کیونکہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے اور بعض علماء کا اس جگہ یہ تاویل کرنا کہ عمر دنیا سے مراد گذشتہ عمر ہے یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ تمام حدیثیں بہ حیثیت پیشگوئی کرنے کے ہیں اور حدیث ہفت پایہ ممبر خواب میں دیکھنے کی بھی اس کی مؤید ہے اور اس بارے میں جو عقیدہ مقبولة الاجماع یہود و نصاری ہے وہ بھی اسی کی تائید کرتا ہے اور گزشتہ نبیوں کے سلسلہ پر نظر کرنے سے یہی تخمینہ قیاسا سمجھ میں آتا ہے ۔ اور یہ کہنا کہ آئندہ کی تو خدا نے کسی کو خبر نہیں دی کہ کب قیامت آئے گی یہ بے شک صحیح ہے مگر عمر دنیا کی سات ہزار برس قرار دینے سے اس امر کے بارے میں کہ کس گھڑی قیامت برپا ہوگی کوئی دلیل قطعی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ سات ہزار کے لفظ سے یہ مستنبط نہیں ہوتا کہ ضرور سات ہزار برس پورا کر کے قیامت آجائے گی ۔ وجہ یہ کہ اول تو یہ امر مشتبہ رہے گا کہ اس جگہ خدا تعالیٰ نے سات ہزار سے شمسی حساب کی مدت مراد لی ہے یا قمری المائدة : المؤمنون : ۱۵