تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 249

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۴۹ پیدا ہوئے یعنی آپ کے وجود کا تمام و کمال پیرا یہ چھٹے دن ظاہر ہوا گو خمیر آدم کا آہستہ تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور بعث ماننا پڑا جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا اور اس تقریر سے یہ بات پایہ ثبوت پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا۔ جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے ظہور سے پورا ہوا۔ غرض جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہوئے تو جو بعض حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہزار ششم کے اخیر میں مبعوث ہوئے تھے اس سے بحث دوم مراد ہے جو نص قطعی آیت کریمہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم ل سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ نادان مولوی جن کے ہاتھ میں صرف پوست ہی پوست ہے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی انتظار کر رہے ہیں مگر قرآن شریف ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ آنے کی بشارت دیتا ہے کیونکہ افاضہ بغیر بعث غیر ممکن ہے اور بعث بغیر زندگی کے غیر ممکن ہے اور حاصل اس آیت کریمہ یعنی وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ کا یہی ہے کہ دنیا میں زندہ رسول ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو ہزار ششم میں بھی مبعوث ہو کر ایسا ہی افاضہ کرے گا جیسا کہ وہ ہزار پنجم میں افاضہ کرتا تھا اور مبعوث ہونے کے اس جگہ یہی معنی ہیں کہ جب ہزار ششم آئے گا اور مہدی موعود اس کے آخر میں ظاہر ہوگا تو گو بظاہر مہدی معہود کے توسط سے دنیا کو ہدایت ہوگی لیکن دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نئے سرے اصلاح عالم کی طرف ایسی سرگرمی سے توجہ کرے گی کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مبعوث ہو کر دنیا میں آگئے ہیں۔ یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ وأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ پس یہ خبر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث دوم کے متعلق ہے جس کے ساتھ یہ شرط ہے ٢٠١ الجمعة :