تحفۂ گولڑویہ — Page 248
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۴۸ (۹۳) فرمایا گیا ہے۔ مثلاً حضرت آدم علیہ السلام چھٹے دن میں یعنی بروز جمعہ دن کے اخیر حصے میں جس کی طرف ہمارے علماء نے کبھی توجہ نہیں کی ۔ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ احادیث صحیحہ متواترہ کے رو سے عمر دنیا یعنی حضرت آدم سے لے کر اخیر تک سات ہزار برس قرار پائی تھی اور قرآن شریف میں بھی آیت اِنَّ يَوْمًا عِنْدَرَ بَّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ لے میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا اور یہود کا ہوا اورخدا کا مقررکرنا اور ان اور اہل کتاب یہود اور نصاری کا بھی یہی مذہب ہوا اور خدا تعالیٰ کا سات دن مقرر کرنا اور اُن کے متعلق سات ستارے مقرر کرنا اور سات آسمان اور سات زمین کے طبقے جن کو ہفت اقلیم کہتے ہیں قرار دینا یہ سب اسی طرف اشارات ہیں تو پھر وہ کون سا حساب ہے جس کے رو سے آنحضرت صلعم کے زمانہ کو الف سادس یعنی ہزار ششم قرار دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو آج کی تاریخ تک تیرہ سو سترہ برس اور چھ مہینے اوپر گذر گئے تو پھر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ چھٹا ہزار تھا تو یہ ہمارا زمانہ کہ جو تیرہ سو برس بعد آیا دنیا کی عمر کے اندر کیونکر رہ سکتا ہے ذرہ چھ ہزار اور تیرہ سو برس کی میزان تو کرو۔ غرض یہ اعتراض ہے جو اس حدیث پر ہوتا ہے جس میں لکھا ہے کہ عمر دنیا کی سات ہزار برس ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر ہزار ششم میں مبعوث ہوئے۔ اور اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک نبی کا ایک بحث ہے مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ل ہے ۔ تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس امت کا آخری گروہ یعنی مسیح موعود کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض اور ہدایت پائیں گے پس جبکہ یہ امرنص صریح قرآن شریف سے ثابت ہوا کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور الحج : ۴۸ الجمعة :