تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 246

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۴۶ (۹۲) آخری حصہ اس دنیا کا ہوا جس سے ہر ایک جسمانی اور روحانی تحمیل وابستہ ہے کیونکہ سات دن یعنی حسب منطوق إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ سات ہزار سال ہے۔ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تمہارا ہزار سال خدا کا ایک دن ہے۔ ایسا ہی طبرانی نے اور نیز بیہقی نے دلائل میں اور شبلی نے روض الف میں عمر دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزار سال روایت کی ہے۔ ایسا ہی بطریق صحیح ابن عباس سے منقول ہے کہ دنیا سات دن ہیں اور ہر ایک دن ہزار سال کا ہے اور بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر ہزار ہفتم میں ہے مگر یہ حدیث دو پہلو سے مور داعتراض ہے جس کا دفع کرنا ضروری ہے۔ اوّل یہ کہ اس حدیث کو بعض دوسری حدیثوں سے تناقض ہے کیونکہ دوسری احادیث میں یوں لکھا ہے کہ بعثت نبوی آخر ہزار ششم میں ہے اور اس حدیث میں ہے کہ ہزار ہفتم میں ہے پس یہ تناقض تطبیق کو چاہتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امر واقعی اور صحیح یہی ہے کہ بعثت نبوی ہزار ششم کے آخر میں ہے جیسا کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ بالا تفاق گواہی دے رہی ہیں لیکن چونکہ آخر صدی کا یا مثلاً آخر ہزار کا اُس صدی یا ہزار کا سر کہلاتا ہے جو اس کے بعد شروع ہونے والا ہے اور اس کے ساتھ پیوستہ ہے اس لئے یہ محاورہ ہر ایک قوم کا ہے کہ مثلاً وہ کسی صدی کے آخری حصے کو جس پر گویا صدی ختم ہونے کے حکم میں ہے دوسری صدی پر جو اس کے بعد شروع ہونے والی ہے اطلاق کر دیتے ہیں مثلاً کہہ دیتے ہیں کہ فلاں مجدد بارھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوا تھا گو وہ گیارھویں صدی کے اخیر پر ظاہر ہوا ہو یعنی گیارھویں صدی کے چند سال رہتے اس نے ظہور کیا ہو اور پھر بسا اوقات باعث تسامح کلام یا قصور فہم راویوں کی وجہ سے یا بوجه عدم ضبط کلمات نبویہ اور ذہول کے جو لازم نھا بشریت ہے کسی قدر اور بھی تغیر ہو جاتا ہے۔ سو اس قسم کا تعارض قابل التفات نہیں بلکہ در حقیقت یہ کچھ تعارض ہی نہیں یہ سب باتیں عادت اور محاورہ میں داخل ہیں کو ئی عقلمند اس کو تعارض نہیں سمجھے گا۔ الحج : ۴۸ (۲) دوسرا پہلو جس کے رو سے اعتراض ہوتا ہے یہ ہے کہ ہمو جب اس حساب کے