تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 245

۲۴۵ روحانی خزائن جلد۱۷ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمر کی کچھ توقیت نہیں کی یعنی خمر کی حد کی کوئی تعداد اور مقدار بیان نہیں کی اور تعیین عدد بیان نہیں فرمائی۔ پس یہی معنے آیت وَإِذَا الرُّسُلُ أَفَتَتْ کے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا اور یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسولوں کی آخری میزان ظاہر کرنے والا مسیح موعود ہے اور یہ صاف بات ہے کہ جب ایک سلسلہ کا آخر ظا ہر ہو جاتا ہے تو عند العقل اس سلسلہ کی پیمائش ہو جاتی ہے اور جب تک کہ کوئی خط ممتد کسی نقطه پر ختم نہ ہوا ایسے خط کی پیمائش ہونا غیر ممکن ہے کیونکہ اس کی دوسری طرف غیر معلوم اور غیر معین ہے۔ پس اس آیت کریمہ کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود کے ظہور سے دونوں طرف سلسلہ خلافت محمدیہ کے معین اور مشخص ہو جائیں گے گویا یوں فرماتا ہے واذا الخلفاء بين تعدادهم وحدّد عددهم بخليفة هو آخر الخلفاء الذى هو المسيح الموعود فان | اخر كل شيء يعين مقدار ذالك الشئ وتعداده فهذا هو معنى واذا الرسل أقتت۔ اور دوسری دلیل زمانہ کے آخری ہونے پر یہ ہے کہ قرآن شریف کی سورہ عصر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یہ زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم پر واقع ہے۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے یہ چھٹا ہزار جاتا ہے۔ اور ایسا ہی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ لہذا آخر ہزار شم وہ حکیم ترندی نے نوادر الاصول میں ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عمر د نیا سات ہزار سال ہے۔ اور انس بن مالک سے روایت ہے کہ جو شخص خدا تعالی (۹۲) کی راہ میں ایک مسلمان کی حاجت براری کرے اس کے لئے عمر دنیا کے اندازہ پر دن کو روزہ رکھنا اور رات کو عبادت کرنا لکھا جاتا ہے اور عمر دنیا سات ہزار سال ہے ۔ دیکھو تاریخ ابن عساکر اور نیز وہی مؤلف انس سے مرفوعاً روایت کرتا ہے کہ عمر دنیا آخرت کے دنوں میں سے المرسلات :١٢