تحفۂ گولڑویہ — Page 244
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۴۴ اتفاق ہے کہ چودھویں صدی وہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح موعود ظاہر ہوگا ہزار ہا اہل اللہ کے دل اسی طرف مائل رہے ہیں کہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ غایت کار چودھویں صدی ہے اس سے بڑھ کر ہر گز نہیں چنانچہ نواب صدیق حسن خاں نے بھی اپنی کتاب حجج الکرامہ میں اس بات کو لکھا ہے ۔ اور پھر ماسوا اس کے سورہ مرسلات میں ایک آیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت کی ایک بھاری علامت یہ ہے کہ ایسا شخص پیدا ہو جس سے رسولوں کی حد بست ہو جائے یعنی سلسلہ استخلاف محمدیہ کا آخری خلیفہ جس کا نام مسیح موعود اور مہدی معہود ہے ظاہر ہو جائے اور وہ آیت یہ ہے وَإِذَا الرُّسُلُ اقْتَتْ ے یعنی وہ آخری زمانہ جس سے رسولوں کے عدد کی تعیین ہو جائے گی یعنی آخری خلیفہ کے ظہور سے قضاء وقدر کا اندازہ جو مرسلین کی تعداد کی نسبت مخفی تھا ظہور میں آجائے گا ۔ یہ آیت بھی اس بات پر نص صریح ہے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا کیونکہ اگر پہلا مسیح ہی دوبارہ آ جائے تو وہ افادہ تعیین عدد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تو بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک رسول ہے جو فوت ہو چکا ہے اور اس جگہ خلفائے سلسلہ محمدیہ کی تعیین مطلوب ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اگست کے یہ معنے یعنی معین کرنا اس عدد کا جو ارادہ کیا گیا ہے کہاں سے معلوم ہوا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتب لغت لسان العرب وغیرہ میں لکھا ہے کہ قدیجی التوقيت بمعنى تبيين الحد والعدد والمقدار كما جاء في حديث ابن عباس رضی الله عنه لم يقت رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر حدا اى لم يقدر ولم يحده بِعَدَدٍ مخصوص یعنی لفظ توقیت جس سے اُفست نکالا ہے کبھی حد اور شمار اور مقدار کے بیان کرنے کے لئے آتا ہے جیسا کہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے المرسلات :١٢