تحفۂ گولڑویہ — Page 238
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۳۸ بے انت اور بے انتہا کمالات الوہیت سے موصوف سمجھتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اُن کی نظر میں خدا کی سلطنت بھی ایسے ہمسر شریکوں سے پاک نہیں ہے اور پھر خاصے موحد اور اہل حدیث ہیں ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ مشرک ہیں اور گو عیسائی ما نہیں یا نہ مانیں لیکن یہ لوگ در حقیقت مشنریوں پر بہت ہی احسان کر رہے ہیں کہ ایک مسلمان کو اگر وہ اُن کے اِن عقیدوں کا پابند ہو جائے جن کو یہ مولوی مسیح اور دجال کی نسبت سکھلا رہے ہیں بہت آسانی (۸۸) سے عیسائی مذہب کے قریب لے آتے ہیں یہاں تک کہ ایک پادری صرف چند منٹ میں ہی ہنسی خوشی میں ان کو مرتد کر سکتا ہے۔ یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ دجال کو الوہیت کی صفات دینے سے عیسائیوں کو کیا فائدہ پہنچتا ہے گو صیح میں ایسی صفات قائم کرنے سے تو فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ جبکہ دجال جیسے دشمن دین اور نا پاک طبع کی نسبت مان لیا گیا کہ وہ اپنے اختیار سے بارش برسانے اور مردوں کے زندہ کرنے اور بارش کے روکنے اور دوسری صفات الوہیت پر قادر ہوگا تو اس سے بہت صفائی کے ساتھ یہ راہ کھل جاتی ہے کہ جبکہ ایک خدا کا دشمن خدائی کے مرتبہ پر پہنچ سکتا ہے اور جبکہ خدائی کا رخانہ میں ایسی بدانتظامی اور گڑ بڑ پڑا ہوا ہے کہ دجال بھی اپنی جھوٹی خدائی چالیس برس تک یا چالیس دن تک چلائے گا تو پھر حضرت عیسی کی خدائی میں کون سا اشکال عائد حال ہو سکتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کے بپتسمہ پانے پر بڑی بڑی اُمید میں پادری صاحبوں کو دلوں میں رکھنی چاہئیں ۔ اور در حقیقت اگر خدا تعالیٰ آسمان سے اپنے اس سلسلہ کی بنیاد اس نازک وقت میں نہ ڈالتا تو ان اعتقادوں کے طفیل سے ہزاروں مولویوں کی روحیں پادری عماد الدین کی روح سے مل جاتیں مگر مشکل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی غیرت اور اس کا وہ وعدہ جو صدی کے سرسے متعلق تھا وہ پادری صاحبوں کی اس کامیابی میں حائل ہو گیا مگر مولوی صاحبوں کی طرف سے کوئی فرق نہیں رہا تھا۔ دانشمند