تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 237

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۳۷ مجھی جاتی ہے تو گویا اس بات کا قبول کرنا ہو گا کہ قرآن کی تعلیم کو ماننا کچھ ضروری نہیں بلکہ اس کے مخالف قدم رکھنا بڑے ثواب کی بات ہے۔ پس وہ لوگ جو ہماری اس مخالفت پر خون پینے کو طیار ہیں مناسب ہے کہ اس موقعہ پر ذرہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے سوچیں کہ وہ کس قدر خدا تعالیٰ کی پاک کلام سے دشمنانہ لڑائی کر رہے ہیں گو فرض کے طور پر اُن کے پاس ایسی حدیثیں انبار در انبار ہوں جن سے دجال معہود کا ایک خوفناک وجود ظاہر ہوتا ہو جو اپنی جسامت کی وجہ سے ایک ایسی سواری کا محتاج ہے جس کے دونوں کانوں کا فاصلہ قریباً تین سو ہاتھ ہے اور زمین و آسمان اور چاند اور سورج اور دریا اور ہوائیں اور مینہ اس کے حکم میں ہیں لیکن ایسا ہیبت ناک وجود پیش کرنے سے کوئی ثبوت پیدا نہیں ہوگا ۔ اس عقل اور قیاس کے زمانہ میں ایسا خلاف قانون قدرت وجود ماننا اسلام پر ایک داغ ہوگا اور غایت کار ہندوؤں کے مہادیو اور بشن اور برہما کی طرح مسلمانوں کے ہاتھ میں بھی لوگوں کے ہنسانے کے لئے یہ ایک لغو کہانی ہوگی جو قرآن کی پیشگوئی لا الضالین کے بھی مخالف ہے اور نیز اس کی تعلیم تو حید کے بھی سراسر مخالف ۔ اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ایسے وجود کو ماننا جس کے ہاتھ میں گو تھوڑے عرصہ کے لئے تمام خدائی قوت اور خدائی انتظام ہوگا اس قسم کے شرک کو اختیار کرنا ہے جس کی نظیر ہندوؤں اور چینیوں اور پارسیوں میں بھی کوئی نہیں ۔ افسوس کہ اہل حدیث جو موحد کہلاتے ہیں۔ اس شرک کی قسم سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں جو چوہے سے بھی کمتر ہے اور اس شرک کو اپنے گھر میں داخل کرتے ہیں جو ہاتھی سے بھی زیادہ ہے۔ ان لوگوں کی تو حید بھی عجیب طور کی پختہ ہے کہ عیسی بن مریم کو خالقیت میں خدا کا قریباً نصف کا شریک مان کر پھر توحید میں کچھ خلل نہیں آیا ۔ تعجب کہ یہ لوگ جو اسلام کی اصلاح اور تو حید کا دم مارتے ہیں وہی اس قسم کے شرکوں پر زور مار رہے ہیں اور خدا کی طرح مسیح کو بلکہ دجال کو بھی