تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 236

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۳۶ دین میں داخل کرنے کے لئے بہت سا مال پیش کریں گے اور ہر قسم کے آرام اور لذات دنیوی کی طمع دیں گے اور اس غرض سے کہ کوئی اُن کے دین میں داخل ہو جائے بھیٹروں کی پوستین پہن کر آئیں گے۔ اُن کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل ہوں گے اور خدائے عز و جل فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ میرے حلم پر مغرور ہور ہے ہیں کہ میں اُن کو جلد تر نہیں پکڑتا اور کیا یہ لوگ میرے پر افتر ا کرنے میں دلیری کر رہے ہیں یعنی میری کتابوں کی تحریف کرنے میں کیوں اس قدر مشغول ہیں ۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں انہی میں سے اور انہی کی قوم میں سے ان پر ایک فتنہ برپا کروں گا ۔ دیکھو کنز العمال جلد نمبرے صفحہ نمبر ۱۷۴۔ اب بتلاؤ کہ کیا اس حدیث سے دجال ایک شخص معلوم ہوتا ہے اور کیا یہ تمام اوصاف جو دجال کے لکھے گئے ہیں یہ آج کل کسی قوم پر صادق آرہے ہیں یا نہیں ؟ اور ہم پہلے اس سے قرآن شریف سے بھی ثابت کر چکے ہیں کہ دجال ایک گروہ کا نام ہے نہ یہ کہ کوئی ایک شخص اور اس حدیث مذکورہ بالا میں جو د قبال کے لئے جمع کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں جیسے یختلون اور يلبسون اور پخترون اور يَجترء ون اور اولئک اور منهم یہ بھی بآواز بلند پکاررہے ہیں کہ دجال ایک جماعت ہے نہ ایک انسان ۔ اور قرآن شریف میں جو یا جوج ماجوج کا ذکر ہے جن کو خدا کی پہلی کتابوں نے یورپ کی قو میں قرار دیا ہے اور قرآن نے اس بیان کی تکذیب نہیں کی یہ دجال کے اُن معنوں پر جو ہم نے بیان کئے ہیں ایک بڑا ثبوت ہے بعض حدیثیں بھی تو ریت کے اس بیان کی مصدق ہیں اور لندن میں یا جوج ماجوج کی پتھر کی ہیکلیں کسی پرانے زمانہ سے اب تک محفوظ ہیں۔ یہ تمام امور جب یکجائی نظر سے دیکھے جائیں تو عین الیقین کے درجہ پر یہ ثبوت معلوم ہوتا ہے اور تمام دجالی خیالات ایک ہی لمحہ میں منتشر ہو جاتے ہیں۔ اگر اب بھی یہ بات قبول نہ کی جائے کہ حقیقت حقہ صرف اسی قدر ہے جو سورۃ فاتحہ کے آخری فقرہ یعنی لا الضالین سے