تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 213

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۱۳ کہ مغضوب علیہم صرف اُن یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایذا دی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا ہے یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکفیر توہین کی تھی اور اس دعا میں ہے کہ یا الہی ہمیں وہ فرقہ مت بنا جن کا نام مغضوب علیھم ہے۔ پس دعا کے رنگ میں یہ ایک پیشگوئی ہے جو د وخبر پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ اس اُمت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس امت میں سے اُس کی بھی تکفیر اور توہین کریں گے اور وہ لوگ مورد غضب الہی ہوں گے (۷۴) اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاریٰ بھی اُن دنوں میں حد سے بڑھا ہوا ہوگا جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنو انہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہوں گے ۔ اور اس جگہ مغضوب | علیھم سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکفیر و توہین و ایذا و ارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الہی نازل ہوگا ۔ یہ میرے جانی دشمنوں کیلئے قرآن کی پیشگوئی ہے۔ یا د رکھنا چاہیے کہ اگر چہ جو شخص راہ راست کو چھوڑتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا اپنے مجرموں سے دو قسم کا معاملہ ہے۔ اور مجرم دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ مجرم ہیں جو حد سے زیادہ نہیں بڑھتے اور گو نہایت درجہ کے تعصب سے ضلالت کو نہیں چھوڑتے مگر وہ ظلم اور ایزا کے طریقوں میں ایک معمولی درجہ تک رہتے ہیں اپنے جور دستم اور بے باکی کو انتہا تک نہیں پہنچاتے ۔ پس وہ تو اپنی سزا قیامت کو پائیں گے اور خدائے علیم اُن کو اس جگہ نہیں پکڑتا کیونکہ ان کی روش میں حد سے زیادہ سختی نہیں۔ لہذا ایسے گناہوں کی سزا کے لئے صرف ایک ہی حمد حدیثوں میں صاف طور پر یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود کی بھی تکفیر ہوگی۔ اور علماء وقت اُس کو کافر ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے اس نے تو ہمارے دین کی بیخ کنی کر دی۔ منہ