تحفۂ گولڑویہ — Page 198
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۹۸ کا پیدا ہونا اور اُن کا تمام ریاستوں پر فائق ہونا۔ یہ پیشگوئی آخری زمانہ کے متعلق ہے۔ اور حدیث مسلم نے پیشگوئی یترک القلاص میں صاف تشریح کر دی ہے اور کھول کر بیان کر دیا ہے کہ مسیح کے وقت میں اونٹ کی سواری ترک کر دی جائے گی۔ (۳) تیسری دلیل جو دلائل گذشتہ مذکورہ کی طرح وہ بھی قرآن شریف سے ہی مستقبط ہے سورہ فاتحہ کی اس آیت کی بنا پر ہے کہ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ - یعنی اے ہمارے خدا ہمیں وہ سیدھی راہ عنایت کر جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور بچا ہم کو ان لوگوں کی راہ سے جن پر تیرا غضب ہے اور جو راہ کو بھول گئے ہیں۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ اسلام کے تمام اکابر اور ائمہ کے اتفاق سے مغضوب علیھم سے مراد یہودی لوگ ہیں اور ضالین سے مراد نصاری ہیں اور قرآن شریف کی آیت یا عیسی انی متوفیک الخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کے مغضوب عليهم ہونے کی بڑی وجہ جس کی سزا ان کو قیامت تک دی گئی اور دائمی ذلت اور محکومیت میں گرفتار کئے گئے یہی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ کے نشان بھی دیکھ کر پھر بھی پورے عناد اور شرارت اور جوش سے اُن کی تکفیر اور توہین اور تفسیق اور تکذیب کی اور اُن پر اور اُن کی والدہ صدیقہ پر جھوٹے الزام لگائے جیسا کہ آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِمَة " سے صریح سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہمیشہ کی محکومیت جیسی اور کوئی ذلت نہیں ۔ اور دائی ذلت کے ساتھ دائمی عذاب لازم پڑا ہوا ہے۔ اور اسی آیت کی تائید ایک دوسری ۔ آیت کرتی ہے جو جز و نمبر 9 سورہ اعراف میں ہے اور وہ یہ ہے وَاذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ کے یعنی خدا نے یہود کے لئے ہمیشہ کے لئے یہ وعدہ کیا ہے کہ ایسے بادشاہ اُن پر مقرر کرتا رہے گا جو انواع و اقسام کے عذاب ان کو دیتے رہیں گے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑی وجہ یہود کے الفاتحة: ،، ال عمران: ۵۶ الاعراف: ۱۶۸