تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 192

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۹۲ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ میں گما کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور پھر چونکہ ہم ابھی حاشیہ میں اکمل اور اتم طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسیح موعود سے مشابہت رکھتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حضرت ابوبکر حضرت یوشع بن نون سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اور حضرت یوشع بن نون اس قاعدہ کے رو سے جو دائرہ کا اول نقطہ دائرہ کے آخر نقطہ سے اتحاد رکھتا ہے جیسا کہ ابھی ہم نے حاشیہ میں لکھا ہے حضرت عیسی بن مریم سے مشابہت رکھتے ہیں تو اس سلسلہ مساوات سے لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسلام کے مسیح موعود سے جو شریعت اسلامیہ کا آخری خلیفہ ہے مشابہت رکھتے ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ حضرت یشوع بن نون سے مشابہ ہیں اور حضرت یشوع بن نون حضرت ابو بکر سے مشاہد۔ اور پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت ابوبکر اسلام کے آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود سے مشابہ ہیں تو اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسی اسلام کے آخری خلیفہ سے جو مسیح موعود ہے مشابہ ہیں۔ کیونکہ مشابہ کا مشا بہ مشابہ ہوتا ہے۔ مثلا اگر خط اُ خطا سے مساوی ہے اور خطا خط آسے مساوی تو ماننا پڑے گا کہ خط اُ خط آسے مساوی ہے اور یہی مدعا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مشابہت مِنْ وَجْهِ مغائرت کو چاہتی ہے اس لئے قبول کرنا پڑا کہ اسلام کا مسیح موعود حضرت عیسی علیہ السلام نہیں ہیں بلکہ اس کا غیر ہے ۔ اور عوام جو بار یک باتوں کو سمجھ نہیں سکتے (۱۳) اُن کے لئے اس قدر کافی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے دو رسول ظاہر کر کے اُن کو دو مستقل شریعتیں عطا فرمائی ہیں۔ ایک شریعت موسویہ۔ دوسری شریعت محمدیہ اور ان دونوں سلسلوں میں تیرہ تیرہ خلیفے مقرر کئے ہیں اور درمیانی باراں خلیفے جو ان دونوں شریعتوں میں پائے جاتے ہیں وہ ہر دو نبی صاحب الشریعت کی قوم میں سے ہیں یعنی موسوی خلیفے اسرائیلی ہیں اور محمدی خلیفے قریشی ہیں مگر آخری دو خلیفے ان دونوں سلسلوں کے