تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 177

روحانی خزائن جلد ۱۷ 122 کہ اُس کی ترتیب شائد یہ ہوگی کہ وہ غیر مرئی نورانی وجود جس نے اپنے تئیں اپنی قدیم طاقت کی وجہ سے خواب میں ظاہر کیا تھا کہ میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہوں جو ایک سونے کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے اس سونے کے تخت کے قریب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کی کرسی ہوگی ساتھ ہی میاں عبد الحق غزنوی کی اور اس کے پہلو پر مولوی عبد الجبار صاحب کی کرسی اور اس کرسی سے ملی ہوئی ایک اور کرسی جس پر زینت بخش مولوی عبد الواحد صاحب غزنوی تھے اور کچھ فاصلہ سے مولوی رسل بابا امرتسری کی کرسی تھی ۔ اور ان دونوں کرسیوں کے درمیان ایک اور کرسی تھی جس کا اندر سے کچھ اور رنگ تھا اور باہر سے کچھ اور تھوڑی سی تحریک کے ساتھ بھی ہل جاتی تھی اور کچھ ٹوٹی ہوئی بھی تھی یہ کرسی مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری کی تھی اس کرسی کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی بینچ پر میاں چٹو لاہوری بیٹھے ہوئے تھے جو اُس دربار کے شریک تھے ۔ اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی کرسی کے پاس ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڑھا نو دسالہ بیٹھا ہوا تھا جس کو لوگ نذیر حسین کہتے تھے اس کی کرسی نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو ایک بچہ کی طرح اپنی گود میں لیا ہوا تھا۔ پھر اس کے بعد مولوی محمد اور مولوی عبدالعزیز لدھیانوی کی کرسیاں تھیں جن کے اندر سے بڑے زور کے ساتھ آواز آرہی تھی کہ یہ پنجاب کے تمام مولویوں میں سے تکفیر میں بڑے بہادر ہیں اور پیغمبر صاحب اس آواز سے بڑے خوش ہورہے تھے اور بار بار پیار سے اُن کے ہاتھ اور نیز مولوی محمد حسین کے ہاتھ چوم کر کہہ رہے تھے کہ یہ ہاتھ مجھے پیارے معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے ابھی تھوڑے دنوں میں میری اُمت میں سے تمہیں ہزار آدمی کا نام کا فر اور دجال رکھا اور فرماتے تھے کہ یہ سخت غلطی تھی کہ لوگوں نے ایسا سمجھا ہوا تھا کہ اگر نوا میں سے نانوے کفر کے آثار پائے جائیں اور ایک ایمان کا نشان پایا جائے تو پھر اس کو مومن سمجھو بلکہ حق بات یہ ہے کہ جس شخص میں ننانوے نشان ایمان کے پائے جائیں اور ایک نشان کفر کا خیال کیا جائے یاظن کیا جائے یا بے تحقیق شہرت دی جائے تو اُس کو بلا شبہ کا فر سمجھنا چاہیے یہ فرمایا اور پھر مولوی