تحفۂ گولڑویہ — Page 169
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۶۹ خواص کے علوم اور کشوف اور عوام کی خوابوں اور کشفی نظاروں میں فرق یہ ہے کہ خواص کا دل تو مظہر تجلیات الہیہ ہو جاتا ہے اور جیسا کہ آفتاب روشنی سے بھرا ہوا ہے وہ علوم اور اسرار غیبیہ سے بھر جاتے ہیں اور جس طرح سمندر اپنے پانیوں کی کثرت کی وجہ سے نا پیدا کنار ہے اسی طرح وہ بھی نا پیدا کنار ہوتے ہیں اور جس طرح جائز نہیں کہ ایک گندے سڑے ہوئے چھپڑ کو محض تھوڑے سے پانی کے اجتماع کی وجہ سے سمندر کے نام سے موسوم کر دیں اسی طرح وہ لوگ جو شاذ و نادر کے طور پر کوئی کچی خواب دیکھ لیتے ہیں اُن کی نسبت نہیں کہہ سکتے کہ وہ نعوذ باللہ ان بحار علوم ربانی سے کچھ نسبت رکھتے ہیں اور ایسا خیال کرنا اسی قسم کا لغو اور بیہودہ ہے کہ جیسے کوئی شخص صرف منہ اور آنکھ اور ناک اور دانت دیکھ کر سو ر کو انسان سمجھ لے یا بندر کو بنی آدم کی طرح شمار کرے تمام مدار کثرت علوم غیب اور استجابت دعا اور باہمی محبت و وفا اور قبولیت اور محبوبیت پر ہے ورنہ کثرت قلت کا فرق درمیان سے اُٹھا کر ایک کرم شب تاب کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی سورج کے برابر ہے کیونکہ روشنی اُس میں بھی ہے۔ دنیا کی جتنی چیزیں ہیں وہ کسی قدر آپس میں مشابہت ضرور رکھتی ہیں ۔ بعض سفید پتھر تبت کے پہاڑوں کی طرف سے ملتے ہیں اور غزنی کے حدود کی طرف سے بھی لاتے ہیں چنانچہ میں نے بھی ایسے پتھر دیکھے ہیں وہ ہیرے سے سخت مشابہت رکھتے اور اسی طرح چمکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک شخص کا بل کی طرف کا رہنے والا چند ٹکڑے پتھر کے قادیان میں لایا اور ظاہر کیا کہ وہ ہیرے کے ٹکڑے ہیں کیونکہ وہ پتھر بہت ۴۹ کا چمکیلے اور آبدار تھے اور ان دنوں میں مدر اس سے ایک مخلص دوست جو نہایت درجہ اخلاص رکھتے ہیں یعنی اخویم سیٹھ عبد الرحمن صاحب تا جر مدراس قادیاں میں میرے پاس تھے ان کو وہ پسند آ گئے اور اُن کی قیمت میں پانسور و پیہ دینے کو تیار ہو گئے اور پچیس روپیہ یا کچھ کم و بیش اُن کو دے بھی دیئے اور پھر اتفاقاً مجھ سے مشورہ طلب کیا کہ میں نے یہ سودا