تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 168

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۶۸ لیتے ہیں اور بعض کشفی نظارے بھی ایک سرعت برق کی طرح عمر بھر میں کبھی اُن کو دکھائے جاتے ہیں۔ پس در حقیقت ایک سرسری نظر سے اس قسم کے مشاہدات سے ایک نادان کے دل میں تمام انبیاء علیہم السلام کی نسبت اعتراض پیدا ہو گا کہ جبکہ ان کی مانند دوسرے لوگوں پر بھی بعض امور غیب کے کھولے جاتے ہیں تو انبیاء کی اس میں کونسی فضیلت ہوئی ؟ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ایک نیک بخت نیک چلن تو کسی امر میں کوئی پیچیدہ خواب دیکھتا ہے یا نہیں دیکھتا مگر اسی رات ایک فاسق بد معاش نجاست خوار کو صاف اور کھلی کھلی خواب دکھائی دیتی ہے اور وہ بچی بھی نکلتی ہے اور اس راز سر بستہ کا حل کرنا عام لوگوں کی طبیعتوں پر مشکل ہو جاتا ہے۔ اور بہتیرے اس سے ٹھوکر کھاتے ہیں سو متوجہ ہو کر سننا چاہیے کہ حمد یہ عجیب حیرت نما امر ہے کہ بعض طوائف یعنی کنجریاں بھی جو سخت نا پاک فرقہ دنیا میں ہیں کچی خواہیں دیکھا کرتی ہیں اور بعض پلید اور فاسق اور حرام خور اور کنجروں سے بدتر اور بددین اور ملحد جو اباحتیوں کے رنگ میں زندگی بسر کرتے ہیں اپنی خواہیں بیان کیا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو کہا کرتے ہیں کہ بھائی میری طبیعت تو کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میری خواب کبھی خطا ہی نہیں جاتی ۔ اور اس راقم کو اس بات کا تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق بھی کچی خوا ہیں دیکھ لیتے ہیں اور یہ امر کو تہ بینوں کو سخت حیرت اور پر یشانی میں ڈالتا ہے اور اس کا وہی جواب ہے جو میں نے متن اور حاشیہ میں لکھا ہے۔ منہ چونکہ ہر یک انسان کے اندر بموجب حدیث کل مولود يولد على فطرة الاسلام ایک کشفی روشنی بھی مخفی ہے تا اگر ایمان یا اعلیٰ مرتبہ ایمان مقدر ہے تو اُس وقت وہ روشنی کرامت کے طور پر ایمانی آثار دکھا دے۔ اس لئے کبھی اتفاق ہو جاتا ہے کہ کفر اور فسق کے زمانہ میں بھی بجلی کی چیک کی طرح کوئی ذرہ اس روشنی کا ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ فطرت میں بوجہ نشا انسانیت کی امانت ہے اور ایک جاہل خیال کرتا ہے کہ گویا مرتبہ ابدال واقطاب مجھے حاصل ہے اس لئے ہلاک ہو جاتا ہے ۔ منہ