تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 154

روحانی خزائن جلد۷ سچ فرماتے ہیں ۔ ۱۵۴ ندارد بصد نکته نغز گوش چو زحفے به بیند بر آرد خروش سیہ نادان نہیں جانتے کہ پیشگوئی ایک علم ہے اور خدا کی وحی ہے اس میں بعض وقت متشابہات بھی ہوتے ہیں اور بعض وقت ملہم تعبیر کرنے میں خطا کرتا ہے جیسا کہ حدیث ذهب وهلی اس پر شاہد ہے پھر احمد بیگ کے داماد کا اعتراض کرنا اور احمد بیگ کی وفات کو بھول جانا کیا یہی ایمان داری ہے۔ اس جگہ تو پیشگوئی کی دو ٹانگ میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی اور ایک حصہ پیشگوئی کا یعنی احمد بیگ کا میعاد کے اندر فوت ہو جانا حسب منشاء پیشگوئی صفائی سے پورا ہو گیا اور دوسرے کی انتظار ہے مگر یونس نبی کی قطعی پیشگوئی میں سے کونسا حصہ پورا ہو گیا ؟ اگر شرم ہے تو اس کا کچھ جواب دو۔ آپ لوگ اگر بہت ہی کم فرصت ہوں اور اُن تمام نشانوں کو جو سو سے زیادہ ہیں غور سے نہ دیکھ سکیں تو نمونہ کے طور پر ایک نشان آسمان کا لے لیں یعنی مہینہ رمضان کا خسوف کسوف اور ایک نشان زمین کا یعنی لیکھرام کا پیشگوئی کے مطابق مارا جانا۔ اور پھر سوچ لیں کہ نشان نمائی میں در حقیقت یہ دو گواہیاں طالب صادق کے لئے کافی ہیں ہاں اگر طالب صادق نہیں تو اس کے لئے تو ہزار معجزہ بھی کافی نہیں ہوگا۔ دیکھنا چاہیے کہ چاند اور سورج کا رمضان شریف میں گرہن ہونا کس قدر ایک مشہور پیشگوئی تھی یہاں تک کہ جب ہندوستان میں یہ نشان ظاہر ہوا تو مکہ معظمہ کی ہر ایک گلی اور کو چہ میں اس کا تذکرہ تھا کہ مہدی موعود پیدا ہو گیا۔ ایک دوست نے جو اُن دنوں میں مکہ میں تھا خط میں لکھا کہ جب مکہ والوں کو سورج اور چاند گرہن کی خبر ہوئی کہ رمضان میں حدیث کے الفاظ کے مطابق گرہن ہو گیا تو وہ سب خوشی سے اچھلنے لگے کہ اب اسلام کی ترقی کا وقت آگیا اور مہدی پیدا ہو گیا اور بعض نے قدیم جہادی غلطیوں کی وجہ سے اپنے ہتھیار صاف کرنے شروع کر دیئے کہ اب کافروں سے لڑائیاں ہوں گی۔ غرض متواتر سنا گیا ہے کہ نہ صرف مکہ میں بلکہ تمام بلاد اسلام