تحفۂ گولڑویہ — Page 149
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۴۹ سر پر مقدر تھا وہ میں ہی ہوں ۔ سو اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ میرے ہی دعوے کے وقت ۳۷ میں آسمان پر خسوف کسوف ہوا ہے اور میرے ہی دعوے کے وقت میں صلیبی فتنے پیدا ہوئے ہیں اور میرے ہی ہاتھ پر خدا نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ مسیح موعود اس امت میں سے ہونا چاہئے اور مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری ٹھہر نہیں سکتا اور میرا رعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ اُن کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آسکیں ۔ چونکہ جبکہ چودھویں صدی میں سے ابھی آٹھ برس گزرے تھے یہ گواہی دی کہ مجذوب گلاب شاہ صاحب نے آج سے تمیں برس پہلے یعنی اس زمانہ میں جبکہ یہ عاجز قریبا ہیں سال کی عمر کا تھا خبر دی تھی کہ میسی جو آنے والا تھا وہ پیدا ہو گیا ہے اور وہ قادیان میں ہے میاں کریم بخش صاحب کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ حضرت عیسی تو آسمان سے اتریں گے وہ کہاں پیدا ہو گیا ؟ تب اُس نے جواب دیا کہ جو آسمان پر بلائے جاتے ہیں وہ واپس نہیں آیا کرتے اُن کو آسمانی بادشاہت مل جاتی ہے وہ اس کو چھوڑ کر واپس نہیں آتے بلکہ آنے والا عیسی قادیاں میں پیدا ہوا ہے۔ جب وہ ظاہر ہوگا تب وہ قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔ میں دل میں ناراض ہوا اور کہا کہ کیا قرآن میں غلطیاں ہیں تب اُس نے کہا کہ تو میری بات نہیں سمجھا قرآن کے ساتھ جھوٹے حاشیے ملائے گئے ہیں وہ دُور کر دے گا۔ یعنی جب وہ ظاہر ہوگا جھوٹی تفسیریں جو قرآن کی کی گئی ہیں اُن کا جھوٹ ثابت کر دے گا ۔ تب اس عیسی پر بڑا شور ہوگا اور تو دیکھے گا کہ مولوی کیسا شور مچائیں گے۔ یادرکھ کہ تو دیکھے گا کہ مولوی کیسا شور مچائیں گے۔ تب میں نے کہا کہ قادیاں تو ہمارے گاؤں سے قریب دو تین میل کے فاصلہ پر ہے اُس میں عیسی کہاں ہے اس کا اُس نے جواب نہ دیا ( وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُس کو اس سے زیادہ علم نہیں دیا گیا تھا کہ عیسی قادیاں میں پیدا ہوگا اور اس کو خبر نہیں تھی کہ ایک قادیان ضلع گورداسپور میں بھی ہے اس لئے اُس نے اس اعتراض میں دخل نہ دیا یا فقیرانہ کبریائی سے اس کی طرف التفات نہ کی) (۳۸) پھر کریم بخش صاحب مرحوم کہتے ہیں کہ ایک دوسرے وقت میں پھر اُس نے یہی ذکر کیا اور کہا کہ اس عیسی کا نام غلام احمد ہے اور وہ قادیاں میں ہے۔ اب دیکھو کس قد راہل کشف ایک زبان ہو کر چودھویں صدی میں عیسی کے ظاہر ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ منہ