تحفۂ گولڑویہ — Page 142
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۴۲ خسوف کسوف کا دیکھنے والا زندہ نہ رہے گا تو اس وقت تو یہ کسوف خسوف کا نشان محض ایک قصہ کے رنگ میں ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ اس وقت علماء کرام اس کو ایک موضوع حدیث کے طور پر سمجھ کر داخل دفتر کر دیں ۔ غرض اگر مہدی اور اس کے نشان میں جدائی ڈال دی جائے تو یہ ایک مکروہ بد فالی ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر گز ارادہ ہی نہیں ہے کہ اس کی مہدویت کو آسمانی نشانوں سے ثابت کرے۔ پھر جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ نشان اس ۳۳) وقت ظاہر ہوتے ہیں جبکہ خدا کے رسولوں کی تکذیب ہوتی ہے اور ان کو مفتری خیال کیا جاتا ہے تو یہ عجیب بات ہے کہ مدعی تو ابھی ظاہر نہیں ہوا اور نہ اس کی تکذیب ہوئی مگر نشان پہلے ہی سے ظاہر ہو گیا اور جب دو تین سو برس کے بعد کوئی پیدا ہوگا اور تکذیب ہوگی تب یہ باسی قصہ کس کام آسکتا ہے کیونکہ خبر معائنہ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ ایسے مدعی کی نسبت قطع کر سکتے ہیں که در حقیقت فلاں صدی میں خسوف کسوف اُسی کی تصدیق میں ہوا تھا۔ خدا کی ہرگز یہ عادت نہیں کہ مدعی اور اس کے تائیدی نشانوں میں اس قدر لمبا فاصلہ ڈال دے جس سے امر مشتبہ ہو جائے ۔ کیا یہ چند لفظ ثبوت کا کام دے سکتے ہیں کہ فلاں صدی میں جو خسوف کسوف ہوا تھا وہ اسی مدعی کی تائید میں ہوا تھا۔ یہ خوب ثبوت ہے جو خود ایک دوسرے ثبوت کو چاہتا ہے۔ غرض یہ دار قطنی کی حدیث مسلمانوں کے لئے نہایت مفید ہے اس نے ایک تو قطعی طور پر مہدی معہود کے لئے چودھویں صدی زمانہ مقرر کر دیا ہے اور دوسرے اس مہدی کی تائید میں اس نے ایسا آسمانی نشان پیش کیا ہے جس کے تیرہ سو برس سے کل اہل اسلام منتظر تھے۔ سچ کہو کہ کیا آپ لوگوں کی طبیعتیں چاہتی تھیں کہ میرے مہدویت کے دعوے کے وقت آسمان پر رمضان کے مہینہ میں خسوف کسوف ہو جائے۔ ان تیرہ سو برسوں میں بہتیرے لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مگر کسی کے لئے یہ آسمانی نشان ظاہر نہ ہوا ۔ بادشاہوں کو بھی