تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 138

روحانی خزائن جلد۱۷ ☆ ۱۳۸ سوایسا ہی وقوع میں آیا کیونکہ چاند کی تیرھویں رات میں جو قمر کی خسوفی راتوں میں سے پہلی رات ہے خسوف واقع ہو گیا اور حدیث کے مطابق واقع ہوا اور نہ مہینہ کی پہلی رات میں قمر کا گرہن ہونا ایسا ہی بدیہی محال ہے جس میں کسی کو کلام نہیں وجہ یہ کہ عرب کی زبان میں چاند کو اسی حالت میں قمر کہہ سکتے ہیں جبکہ چاند تین دن سے زیادہ کا ہو اور تین دن تک اس کا نام ہلال ہے نہ قمر اور بعض کے نزدیک سات دن تک ہلال ہی کہتے ہیں ۔ چنانچہ قمر کے لفظ میں لسان العرب وغیرہ میں یہ عبارت ہے۔ هو بعد ثلث ليال الى اخر الشهر یعنی چاند کا قمر کے لفظ پر اطلاق تین رات کے بعد ہوتا ہے۔ پھر جبکہ پہلی رات میں جو چاند نکلتا ہے وہ قمر نہیں ہے اور نہ قمر کی وجہ تسمیہ یعنی شدت سپیدی و روشنی اس میں موجود ہے تو پھر کیونکر یہ معنے صحیح ہوں گے کہ پہلی رات میں قمر کو گرہن لگے گا ۔ یہ تو ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں جواں عورت پہلی رات میں ہی حاملہ ہو جائے گی اور اس پر کوئی مولوی صاحب ضد کر کے یہ معنے بتلا دیں کہ پہلی رات سے مراد وہ ، رات ہے جس رات وہ لڑکی پیدا ہوئی تھی تو کیا یہ معنے صحیح ہوں گے؟ اور کیا اُن کی خدمت میں کوئی عرض نہیں کرے گا کہ حضرت پہلی رات میں تو وہ جوان عورت نہیں کہلاتی بلکہ اس کو صبیہ یا بچہ کہیں گے پھر اس کی طرف حمل منسوب کرنا کیا معنے رکھتا ہے ؟ اور اس جگہ ہر ایک عقلمند یہی سمجھے گا کہ پہلی رات سے مراد زفاف کی رات ہے جبکہ اوّل دفعہ ہی کوئی عورت اپنے خاوند کے پاس جائے ۔ اب بتلاؤ کہ اس فقرے میں اگر کوئی اس طرح کے معنے کرے تو کیا وہ معنے آپ کے نزدیک صحیح ہیں ؟ اس بنیاد پر کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے اور کیا آپ ایسا خیال کر لیں گے کہ وہ جوان عورت پیدا ہوتے ہی اپنی پیدائش کی پہلی رات میں ہی حاملہ ہو جائے گی۔ اے حضرات! ایڈیشن اوّل میں سہو کتابت ہے۔ درست عبارت یوں ہوگی ”چاند پر قمر کے لفظ کا اطلاق تین رات کے بعد ہوتا ہے ( ناشر )