تحفۂ گولڑویہ — Page 133
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۳۳ اس حدیث سے صاف طور پر چودھویں صدی متعین ہوتی ہے کیونکہ کسوف خسوف جو مہدی کا ۴۲۸ زمانہ بتلاتا ہے اور مکذبین کے سامنے نشان پیش کرتا ہے وہ چودھویں صدی میں ہی ہوا ہے۔ اب اس سے زیادہ صاف اور صریح دلیل کونسی ہوگی کہ کسوف خسوف کے زمانہ کو مہدی معہود کا زمانہ حدیث نے مقرر کیا ہے اور یہ امر مشہود محسوس ہے کہ یہ کسوف خسوف چودھویں صدی ہجری میں ہی ہوا اور اسی صدی میں مہدی ہونے کے مدعی کی سخت تکذیب ہوئی ۔ پس ان قطعی اور یقینی مقدمات سے یہ قطعی اور یقینی نتیجہ نکلا کہ مہدی معہود کا زمانہ چودھویں صدی ہے اور اس سے انکار کرنا امور مشہودہ محسوسه بدیہیہ کا انکار ہے۔ ہمارے مخالف اس بات کو تو مانتے ہیں کہ چاند اور سورج کا گرہن رمضان میں واقع ہو گیا اور چودھویں صدی میں واقع ہوا مگر نہایت ظلم اور حق پوشی کی راہ سے تین عذر پیش کرتے ہیں۔ ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا یہ عذر صحیح ہیں؟ (۱) اوّل یہ عذر ہے کہ بعض راوی اس حدیث کے ثقاۃ میں سے نہیں ہیں اس کا یہ جواب ہے که اگر در حقیقت بعض راوی مرتبہ اعتبار سے گرے ہوئے تھے تو یہ اعتراض دار قطنی پر ہوگا کہ اُس نے ایسی حدیث کو لکھ کر مسلمانوں کو کیوں دھوکا دیا ؟ یعنی یہ حدیث اگر قابل اعتبار نہیں تھی تو دار قطنی نے اپنی صحیح میں کیوں اس کو درج کیا ؟ حالانکہ وہ اس مرتبہ کا آدمی ہے جو صحیح بخاری پر بھی تعاقب کرتا ہے اور اس کی تنقید میں کسی کو کلام نہیں اور اس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ گزر گیا مگر اب تک کسی عالم نے اس حدیث کو زیر بحث لاکر اس کو موضوع قرار نہیں دیا نہ یہ کہا کہ اس کے ثبوت کی تائید میں کسی دوسرے طریق سے مدد نہیں ملی بلکہ اس وقت سے جو یہ کتاب ممالک اسلامیہ میں شائع ہوئی تمام علماء و فضلاء متقدمین و متاخرین میں سے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے ۔ بھلا اگر کسی نے اکابر محدثین میں سے اس حدیث کو موضوع ٹھہرایا ہے تو اُن میں سے کسی محدث کا فعل یا قول پیش تو کرو جس نے لکھا ہو کہ یہ حدیث موضوع ہے اور اگر کسی جلیل الشان