تحفۂ گولڑویہ — Page 126
روحانی خزائن جلد۱۷ ١٢٦ قوم میں سے نہیں ہوگا کیونکہ ضرور تھا کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا خاتم الانبیاء اپنے باپ کے رو سے حضرت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں ہے ایسا ہی محمدی سلسلہ کا خاتم الاولیاء قریش میں سے نہ ہو اور اسی جگہ سے قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ اسلام کا مسیح موعود ہی امت میں سے آنا چاہئے کیونکہ جبکہ نص قطعی قرآنی یعنی گما کے لفظ سے ثابت ہو گیا کہ سلسلہ استخلاف محمدی کا سلسلہ استخلاف موسوی سے مماثلت رکھتا ہے جیسا کہ اُس كَمَا کے لفظ سے ان دو نبیوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت ثابت ہے جو آیت كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولاًالے سے سبھی جاتی ہے تو یہ مماثلت اس حالت میں قائم رہ سکتی ہے جبکہ محمدی سلسلہ کے آنے والے خلیفے گزشتہ خلیفوں کا عین نہ ۲۵ ہوں بلکہ غیر ہوں ۔ وجہ یہ کہ مشابہت اور مماثلت میں من وجہ مغائرت ضروری ہے اور کوئی چیزا اپنے نفس کے مشابہہ نہیں کہلا سکتی ۔ پس اگر فرض کر لیں کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمد یہ کا جو تقابل کے لحاظ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے مقابل پر واقع ہوا ہے جس کی جبکہ بوجہ کما کے لفظ کے جو آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ے میں موجود ہے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کی نسبت وجو با و قطعاً مان لیا گیا ہے کہ وہ وہی خلیفے نہیں ہیں جو موسوی سلسلہ کے خلیفے تھے ہاں ان خلیفوں سے مشابہ ہیں اور نیز ساتھ اس کے واقعات نے بھی ظاہر کر دیا ہے کہ وہ لوگ پہلے خلیفوں کے عین نہیں ہیں بلکہ غیر ہیں تو پھر آخری خلیفہ اس سلسلہ محمدیہ کی نسبت جو مسیح موعود ہے کیوں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ پہلے مسیح کا عین ہے؟ کیا وہ گما کے لفظ کے نیچے نہیں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ حسب منشاء گما کے لفظ کے محمدی سلسلہ کا مسیح اسرائیلی مسیح کا غیر ہونا چاہیے نہ عین۔ عین سمجھنا تو قرآن کے منطوق نص پر صریح حملہ ہے بلکہ قرآن شریف کی صریح تکذیب ہے اور نیز ایک بے جا تحکم کہ باراں خلیفوں کو تو حسب نشاء گما کے لفظ کے اسرائیلی خلیفوں کا غیر سمجھنا اور پھر مسیح موعود کو جو سلسلہ موسویہ کے مقابل پر سلسلہ محمدیہ کا آخری خلیفہ ہے پہلے مسیح کا عین قرار دے دينا وهذه نكتة مبتكرة وحجّة باهرة ودرّة من درر تفردت بها فخذوها بقوة واشكروا الله بانابة ولا تكونوا من المحرومين منه المزمل: ١٦ النور : ۵۶