تحفۂ گولڑویہ — Page 125
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۲۵ ہوتے اور آخری خلیفہ اپنے آباء و اجداد کے رو سے اس قوم میں سے نہ ہوتا تا تحقق مشابہت (۳) اکمل اور اتم طور پر ہو جاتا۔ سو الحمد لله والمنة کہ ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث متفق علیہ ہے جو جابر بن سمرہ سے ہے اور وہ یہ ہے۔ لا یزال الاسلام عزيزا الى اثنا عشر خليفة كلهم من قريش يعنی بارہ خلیفوں کے ہوتے تک اسلام خوب قوت اور زور میں رہے گا مگر تیرھواں خلیفہ جو مسیح موعود ہے اُس وقت آئے گا جبکہ اسلام غلبہ صلیب اور غلبہ وجالیت سے کمزور ہو جائے گا اور وہ بارہ خلیفے جو غلبہ اسلام کے وقت آتے رہیں گے وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوں گے مگر مسیح موعود جو اسلام کے ضعف کے وقت آئے گا وہ قریش کی الفاظ حدیث یہ ہیں ۔ عن جابر بن سمرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يزال الاسلام عزيزا الى اثنى عشر خليفة كلهم من قريش متفق عليه مشکوۃ شریف باب مناقب قریش۔ یعنی اسلام باراں خلیفوں کے ظہور تک غالب رہے گا اور وہ تمام خلیفے قریش میں سے ہوں گے۔ اس جگہ یہ دعوی نہیں ہو سکتا کہ مسیح موعود بھی انہی باراں میں داخل ہے کیونکہ متفق علیہ یہ امر ہے کہ مسیح موعود اسلام کی قوت کے وقت نہیں آئے گا بلکہ اس وقت آئے گا جبکہ زمین پر نصرانیت کا غلبہ ہوگا جیسا کہ یکسر الصلیب کے فقرہ سے مستنبط ہوتا ہے۔ پس ضرور ہے کہ مسیح کے ظہور سے پہلے اسلام کی قوت جاتی رہے اور مسلمانوں کی حالت پر ضعف طاری ہو جائے اور اکثر ان کے دوسری طاقتوں کے نیچے اسی طرح محکوم ہوں جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور کے وقت یہودیوں کی حالت ہو رہی تھی ۔ چونکہ حدیثوں میں مسیح موعود کا خاص طور پر تذکرہ تھا اس لئے باراں خلیفوں سے اس کو الگ رکھا گیا کیونکہ مقدر ہے کہ وہ نزول شدائد و مصائب کے بعد آدے اور اس وقت آوے جبکہ اسلام کی حالت میں ایک صریح انقلاب پیدا ہو جائے اور اسی طرز سے حضرت عیسی علیہ السلام آئے تھے یعنی ایسے وقت میں جبکہ یہودیوں میں ایک صریح زوال کی علامت پیدا ہو گئی تھی پس اس طریق سے حضرت موسیٰ کے خلیفے بھی تیرہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفے بھی تیرہ اور جیسا کہ حضرت موسیٰ سے حضرت عیسی علیہ السلام چودھویں جگہ تھے ایسا ہی ضرور تھا کہ اسلام کا مسیح موعود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چودھویں جگہ پر ہو اسی مشابہت سے مسیح موعود کا چودھویں صدی میں ظاہر ہونا ضروری تھا۔ منہ