تحفۂ گولڑویہ — Page 121
۱۲۱ روحانی خزائن جلد ۱۷ دجال مراد ہے۔ ایسا ہی آیت اخرجت للناس میں بھی الناس کے لفظ سے دجال ہی مراد ہے۔ کیونکہ تقابل کے قرینہ سے اس آیت کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ کنتم خیر الناس اخرجت لشر الناس ۔ اور شر الناس سے بلاشبہ گروہ دجال مراد ہے کیونکہ حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ آدم سے قیامت تک شرانگیزی میں دجال کی مانند نہ کوئی ہوا اور نہ ہوگا اور یہ ایک ایسی محکم اور قطعی دلیل ہے کہ جس کے دونوں حصے یقینی اور قطعی اور عقائد مسلمہ میں سے ہیں یعنی جیسا کہ کسی مسلمان کو اس بات سے انکار نہیں کہ یہ امت خیر الامم ہے اسی طرح اس بات سے بھی انکار نہیں کہ گروہ دجال شر الناس ہے اور اس تقسیم پر یہ دو آیتیں بھی دلالت کرتی ہیں جو سورۃ لم یکن میں ہیں اور وہ یہ ہیں إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أُولَيكَ هُمْ شَرِّ الْبَرِيَّةِ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أُولَيكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ے دیکھو اس آیت کے رو سے ایک ایسے گروہ کو شر البریہ کہا گیا ہے جس میں سے گروہ دجال ہے اور ایسے گروہ کو خیر البریہ کہا گیا ہے جو امت محمدیہ ہے ۔ بہر حال آیت خیرامۃ کا لفظ الناس کے ساتھ مقابلہ ہو کر قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ الناس سے مراد دجال ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔ اور اس مقصد پر ایک یہ بھی بزرگ قرینہ ہے کہ خدا کی عادت حکیمانہ یہی چاہتی ہے کہ جس نبی کے عہد نبوت میں دجال پیدا ہو ۔ اُسی نبی کی امت کے بعض افراد اس فتنہ کے فرو کرنے والے ہوں نہ یہ کہ فتنہ تو پیدا ہو وے عہد نبوت محمدیہ میں اور کوئی گذشتہ نبی اس کے فرو کرنے کے لئے نازل ہو اور یہی قدیم سے اور جب سے (۲۲) کہ شریعتوں کی بنیاد پڑی سنت اللہ ہے کہ جس کسی نبی کے عہد نبوت میں کوئی مفسد فرقہ پیدا ہوا اُسی نبی کے بعض جلیل الشان وارثوں کو اس فساد کے فرو کرنے کے لئے حکم دیا گیا ہاں اگر یہ فتنہ دجال کا حضرت مسیح کے عہد نبوت میں ہوتا تو اُن کا حق تھا کہ خود وہ یا کوئی اُن کے حواریوں اور خلیفوں میں سے اس فتنہ کو فرو کرتا مگر یہ کیا اندھیر کی بات ہے کہ یہ امت کہلا دے تو خیر الامم مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں اس قدر نالائق البيئة: ۸۷