تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 114

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۱۴ کی موت اور رفع جسمانی پر یہ دلائل ہیں جو ہم نے بہت بسط سے اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں اور اب تک ہمارے مخالف عدم جواب کی وجہ سے ہمارے مدیون ہیں۔ پھر اس میں اب ہم پیر مہر علی شاہ یا کسی اور پیر صاحب یا مولوی صاحب سے کیا بحث کریں۔ ہم تو باطل کو ذبح کر چکے اب ذبح کے بعد کیوں اپنے ذبیحہ پر بے فائدہ چھری پھیریں ۔ اے حضرات ! ان اُمور میں اب بحثوں کا وقت نہیں۔ اب تو ہمارے مخالفوں کے لئے ڈرنے اور تو بہ کرنے کا وقت ہے کیونکہ جہاں تک اس دنیا میں ثبوت ممکن ہے اور جہاں تک حقائق اور دعاوی کو ثابت کیا جاتا ہے اسی طرح ہم نے حضرت مسیح کی موت اور ان کے رفع روحانی کو ثابت کر دیا ہے۔ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلُلُ اب موت مسیح کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا اسی اُمت میں سے آنا کن نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور دیگر قرائن سے ثابت ہے۔سو وہ دلائل ذیل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ غور سے سنو شاید خدائے رحیم ہدایت کرے۔ منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو آنے والا مسیح جس کا اس اُمت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اس اُمت میں سے ایک شخص ہوگا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں امامکم منکم اور امکم منکم لکھا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہوگا۔ چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسی کی نسبت ہے اور اسی کی تعریف میں اس حدیث میں حکم اور عدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اسی کے حق میں ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ منکم کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے لیکن ظاہر ہے کہ اُن میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا اس لئے منکم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ لے کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ يونس : ۳۳ الجمعة ٤